اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 403 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 403

حاب بدر جلد 2 403 حضرت ابو بکر صدیق ہے کہ اگر یہ معانی بظاہر معارض بھی ہوتے تب بھی تقوی اور دیانتداری کا تقاضا تو یہ تھا کہ ابو بکر ہی کی مانتے یعنی لوگ انہی کی بات مانتے مگر یہاں تو ایک لفظ بھی قرآن مجید میں ایسا نہیں ہے جو حضرت ابو بکر کے معنوں کا معارض ہو۔آپ فرماتے ہیں کہ مولویوں سے پوچھو کہ ابو بکر دانشمند تھے کہ نہیں۔کیا وہ ابو بکر نہ تھے جو صدیق کہلایا۔کیا یہی وہ شخص نہیں جو سب سے پہلے خلیفہ رسول اللہ کا بنا۔جس نے اسلام کی بہت بڑی خدمت کی کہ خطرناک ارتداد کی وبا کو روک دیا۔فرماتے ہیں: اچھا اور باتیں جانے دو۔یہی بتاؤ کہ حضرت ابو بکر کو منبر پر چڑھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی۔پھر تقویٰ سے یہ بتاؤ کہ انہوں نے جو مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (آل عمران :145) پڑھا تو اس سے استدلال تام کرنا تھا یا ایسا ناقص کہ ایک بچہ بھی کہہ سکتا کہ عیسی کو موتی سمجھنے والا کافر ہو جاتا ہے۔947 یعنی مکمل یہ آیت پڑھنے کا مطلب ہی یہ تھا کہ ایک بڑا واضح اور ٹھوس دلیل دی جائے نہ کہ ناقص دلیل۔وو پھر ایک اور موقع پر اسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں که " الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِینگھ کی آیت دو پہلو ر کھتی ہے۔ایک یہ کہ تمہاری تطہیر کر چکا۔دوم کتاب مکمل کر چکا۔کہتے ہیں جب یہ آیت اتری تو ابو بکر رو پڑے۔کسی نے کہا اے بڑھے۔کیوں روتا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ اس آیت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی بو آتی ہے۔کیونکہ یہ مقرر شدہ بات ہے کہ جب کام ہو چکتا ہے تو اس کا پورا ہونا ہی وفات پر دلالت کرتا ہے۔جیسا دنیا میں بند وبست ہوتے ہیں اور جب وہ ختم ہو جاتا ہے تو عملہ وہاں سے رخصت ہو تا ہے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر والا قصہ سنا تو فرمایا سب سے سمجھدار ابو بکر ہے اور یہ فرمایا کہ اگر دنیا میں کسی کو دوست رکھتا تو ابو بکر کو رکھتا اور فرمایا۔ابو بکر کی کھڑ کی مسجد میں کھلی رہے باقی سب بند کر دو۔کوئی پوچھے کہ اس میں مناسبت کیا ہوئی اس سے کیا مراد ہے کہ دوست رکھتا، پھر کھڑ کی کھلی رہے گی۔آپ مناسبت بیان فرمارہے ہیں کہ ”تو یاد رکھو کہ مسجد خانہ خدا ہے جو سر چشمہ ہے تمام حقائق و معارف کا۔اس لئے فرمایا کہ ابو بکر کی اندرونی کھڑ کی اس طرف ہے تو اس کے لئے یہ بھی کھڑ کی رکھی جاوے۔یہ بات نہیں کہ اور صحابہ محروم تھے۔“ ان میں بھی بڑے بڑے فراست والے تھے لیکن سب سے زیادہ حضرت ابو بکر میں تھی بلکہ ابو بکر کی فضیلت وہ ذاتی فیر است تھی جس نے ابتداء میں بھی اپنا نمونہ دکھایا اور انتہاء میں بھی۔گویا ابو بکر کا وجود مَجْمُوعَةُ الْفِرَاسَتَيْن تھا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ” (حضرت ابو بکر صدیق صاحب تجربہ اور صاحب فراست لوگوں میں سے تھے۔آپ نے بہت سے پیچیدہ امور اور ان کی سختیوں کو دیکھا اور کئی معرکوں میں شامل ہوئے اور ان کی جنگی چالوں کا مشاہدہ کیا۔اور آپ نے کئی صحر او کو ہسار روندے اور کتنے ہی ہلاکت کے مقامات تھے جن میں آپ بے دریغ گھس گئے۔اور کتنی سج راہیں تھیں جن کو آپ نے سیدھا کیا۔اور کئی جنگوں میں آپ نے پیش قدمی کی اور کتنے ہی فتنے تھے جن کو آپ نے نیست و نابود کیا