اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 402
اصحاب بدر جلد 2 402 946" حضرت ابو بکر صدیق ان کا رونا دیکھ کر سخت غصہ آیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو کسی بندے کا واقعہ بیان فرمارہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اختیار دیا کہ وہ چاہے تو دنیا میں رہے اور چاہے تو خدا تعالیٰ کے پاس چلا جائے۔اور اس نے خدا تعالیٰ کے قرب کو پسند کیا، یہ بڑھا کیوں رو رہا ہے؟ مگر حضرت ابو بکر کی اتنی ہچکی بندھی، اتنی ہچکی بندھی کہ وہ کسی طرح رکھنے میں ہی نہیں آتی تھی۔“ آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابو بکر سے مجھے اتنی محبت ہے کہ اگر خدا کے سوا کسی کو خلیل بنانا جائز ہو تا تو میں ابو بکر کو بناتا۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دنوں کے بعد وفات پاگئے تو اس وقت ہم نے سمجھا کہ ابو بکر شکار و نا سچا تھا اور ہمارا غصہ بیوقوفی کی علامت تھا۔“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر جن کو قرآن مجید کا یہ فہم ملا تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (المائدہ 4) پڑھی تو حضرت ابو بکر رو پڑے۔کسی نے پوچھا کہ یہ بڑھا کیوں روتا ہے ؟ تو آپ نے یعنی حضرت ابو بکر نے کہا کہ مجھے اس آیت سے پیغمبر خدا، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی بو آتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ انبیاء علیہ السلام بطور حکام کے ہوتے ہیں جیسے بند وبست کا ملازم جب اپنا کام کر چکتا ہے تو وہاں سے چل دیتا ہے۔اسی طرح انبیاء علیہم السلام جس کام کے واسطے دنیا میں آتے ہیں جب اس کو کر لیتے ہیں تو پھر وہ اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔پس جب الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لکم دینکم کی صدا پہنچی تو حضرت ابو بکر نے سمجھ لیا کہ یہ آخری صدا ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکر کا فہم بہت بڑھا ہو ا تھا اور یہ جو احادیث میں آیا ہے کہ مسجد کی طرف سب کھڑکیاں بند کی جاویں۔یہ کھڑ کی کی وضاحت بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرما دی کہ کھڑ کیاں بند کرنے سے کیا مراد ہے۔فرمایا کہ یہ جو حدیث میں آیا ہے کہ مسجد کی طرف سب کھڑکیاں بند کر دی جاویں مگر ابو بکر کی کھڑ کی مسجد کی طرف کھلی رہے گی اس میں یہی سر ہے کہ مسجد چونکہ مظہر اسرار الہی ہوتی ہے اس لیے حضرت ابو بکر صدیق کی طرف یہ دروازہ بند نہیں ہو گا۔اللہ تعالیٰ کے اسرار ، راز، باتوں میں گہرائی، اللہ تعالیٰ کی باتوں میں جو حکمت ہے وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ہمیشہ کھلی رہے گی۔بعد میں بھی کھلتی چلی جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام استعارات اور مجاز سے کام لیتے ہیں۔جو شخص خشک ملاؤں کی طرح یہ کہتا ہے کہ نہیں ظاہر ہی ظاہر ہوتا ہے وہ سخت غلطی کرتا ہے۔مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے سے یہ کہنا کہ یہ دہلیز بدل دے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سونے کے کڑے دیکھنا وغیرہ امور اپنے ظاہری معنوں پر نہیں تھے بلکہ استعارہ اور مجاز کے طور پر تھے۔ان کے اندر ایک اور حقیقت تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ غرض مدعا یہی تھی کہ حضرت ابو بکر کو فہم قرآن سب سے زیادہ دیا گیا تھا اس لیے حضرت ابو بکر نے یہ استدلال کیا۔آپ فرماتے ہیں کہ میر اتو یہ مذہب