اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 393 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 393

ناب بدر جلد 2 393 حضرت ابو بکر صدیق گھسیٹتے پھریں تب بھی میں اس لشکر کو جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھجوانے کے لئے تیار کیا 915❝❝ تھا روک نہیں سکتا۔حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس بحرین کا مال آیا تو میں تمہیں اتنا اتنا اور اتنا دوں گا۔ہاتھ کے اشاروں سے بتایا۔مگر وہ مال اس وقت آیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تھے۔جب بحرین کا مال آیا تو حضرت ابو بکر نے منادی کو حکم دیا، اعلان کر وایا اور اس نے اعلان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ جس کا کوئی قرضہ یا وعدہ ہو وہ ہمارے پاس آئے۔یہ سن کر یہ کہتے ہیں کہ میں بھی ان کے پاس گیا اور میں نے کہار سول اللہ صلی اللہ علیہ نے مجھ سے ایسا ایسا وعدہ فرمایا تھا تو حضرت ابو بکر نے تین کپ بھر کر دیے۔علی بن مدینی کہتے تھے کہ سفیان دونوں ہاتھ اکٹھے کر کے آپ بھرتے کہ یوں اٹھا کے تین دفعہ اس طرح دیا تھا۔916 حضرت ابو سعید خدری نے بیان کیا کہ جب بحرین سے مال آیا تو میں نے حضرت ابو بکر کے منادی کو یہ آواز دیتے ہوئے سنا کہ جس شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وعدہ کیا ہو تو وہ آئے۔لوگ حضرت ابو بکڑ کے پاس آئے تو وہ انہیں دیتے تھے۔پھر حضرت ابو بشیر مازنی آئے۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو بشیر ! جب ہمارے پاس کچھ آئے تو ہمارے پاس آنا۔اس پر حضرت ابو بکر نے انہیں دو یا تین کپ بھر کر دیا جس کو انہوں نے چودہ سو درہم میں پایا۔7 917 آپ کا مطلب ہے کہ دونوں ہاتھوں سے پورا بھر کے۔حضرت ابو بکر صدیق صحابہ کرام سے محو گفتگو تھے کہ تھوڑی دیر کے بعد آپ نے اپنے غلام سے کہا کہ پانی پلاؤ۔غلام کچھ دیر کے بعد مٹی کے برتن میں پانی لایا۔حضرت ابو بکر صدیق نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بر تن کو پکڑا اور پیاس بجھانے کے لیے اپنے منہ کے قریب کیا ہی تھا کہ آپ نے دیکھا کہ برتن تو شہد سے بھرا ہوا ہے جس میں پانی بھی ملا ہوا ہے۔آپ نے وہ برتن رکھوا دیا اور وہ پانی نہیں پیا۔پھر غلام کی طرف دیکھا اور اس سے پوچھا کہ یہ کیا ہے۔غلام نے کہا کہ پانی میں شہد ملایا ہے۔حضرت ابو بکر صدیق بر تن کی طرف غور سے دیکھنے لگے۔چند لمحات ہی گزرے تھے کہ آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہنے لگا۔حضرت ابو بکر صدیق ہچکیاں باندھ باندھ کر رونے لگے۔روتے روتے۔آپ کی آواز اور بلند ہو گئی اور آپ پر شدید گر یہ طاری ہو گیا۔لوگ متوجہ ہوئے اور تسلی دینے لگے کہ اے خلیفہ رسول ! آپ کو کیا ہو گیا ہے۔آپ اس قدر شدید کیوں رو رہے ہیں ؟ ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ سسکیاں بھر کر کیوں رو رہے ہیں لیکن حضرت ابو بکر صدیق نے رونا بند نہ کیا بلکہ آس پاس کے تمام لوگوں نے بھی آپ کو دیکھ کر رونا شروع کر دیا اور رورو کر وہ خاموش بھی ہو گئے لیکن حضرت ابو بکرہ مسلسل روتے جارہے تھے۔جب آپ کے آنسو