اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 369
اصحاب بدر جلد 2 369 حضرت ابو بکر صدیق بچے کو قتل نہ کرنا اور نہ کسی بوڑھے کو اور نہ ہی کسی عورت کو اور نہ کھجور کے درخت کاٹنا اور نہ اس کو جلانا اور نہ کسی پھل دار درخت کو کاٹنا۔نہ تم کسی بکری گائے اور اونٹ کو ذبح کرنا سوائے کھانے کے لیے۔جب ضرورت ہو کرو نہیں تو نہیں۔اور تم کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرو گے جنہوں نے اپنے آپ کو گرجوں میں وقف کر رکھا ہے۔پس تم انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دینا انہیں کچھ نہیں کہنا جو راہب ہیں۔اور تم ایسے لوگوں کے پاس جاؤ گے جو تمہیں مختلف قسم کے کھانے برتنوں میں پیش کریں گے۔تم ان پر اللہ کا نام لے کر کھانا۔اور تمہیں ایسے لوگ ملیں گے جو اپنے سر کے بال درمیان سے صاف کیے ہوں گے اور چاروں طرف پٹیوں کی مانند بال چھوڑے ہوں گے تو تلوار سے ان کی خبر لینا کیونکہ یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف بھڑ کانے والے اور جنگیں کرنے والے لوگ ہیں۔اللہ کے نام سے روانہ ہو جاؤ۔اللہ تمہیں ہر قسم کے زخم سے اور ہر قسم کی بیماری اور طاعون سے محفوظ رکھے۔858 اسی طرح حضرت ابو بکر نے حضرت یزید بن ابو سفیان کو شام کی جنگ کے لیے بھیجتے ہوئے فرمایا۔اس کا ذکر میں پہلے بھی پچھلے خطبہ میں کر چکا ہوں۔بعض اہم باتوں کا خلاصہ دوبارہ بیان کر دیتا ہوں۔یہ بڑی ضروری باتیں ہیں۔یاد رکھنے والی ہیں۔ہر عہدیدار کے لیے یادرکھنے والی ہیں۔آپ نے کہا کہ میں نے تمہیں والی مقرر کیا تا کہ تمہیں آزماؤں۔تمہارا تجربہ کروں اور تمہیں باہر نکال کر تمہاری تربیت کروں۔اگر تم نے اپنے فرائض بحسن و خوبی ادا کیے تو تمہیں دوبارہ تمہارے کام پر مقرر کروں گا اور تمہیں مزید ترقی دوں گا اور اگر تم نے کوتاہی کی تو تمہیں معزول کر دوں گا۔اللہ کے تقویٰ کو تم لازم پکڑو وہ تمہارے باطن کو اسی طرح دیکھتا ہے جس طرح ظاہر کو دیکھتا ہے۔لوگوں میں خدا کے زیادہ قریب وہ ہے جو اللہ سے دوستی کا سب سے بڑھ کر حق ادا کرنے والا ہے اور لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ کے قریب وہ شخص ہے جو اپنے عمل کے ذریعہ سب سے زیادہ اس سے قربت حاصل کرے۔پھر فرمایا۔جاہلی تعصب سے بچنا۔اللہ کو یہ باتیں انتہائی نا پسند ہیں۔پھر فرمایا تم اپنے لشکر کے ساتھ اچھا بر تاؤ کرنا۔ان کے ساتھ خیر سے پیش آنا۔جب انہیں وعظ و نصیحت کرنا تو مختصر کرنا کیونکہ بہت زیادہ گفتگو بہت سی باتوں کو بھلا دیتی ہے۔تم اپنے نفس کو درست رکھو لوگ تمہارے لیے درست ہو جائیں گے۔لیڈر اپنے درست رکھیں۔عہدیدار اپنی حالت درست رکھیں تو لوگ خود بخود درست ہو جاتے ہیں۔اور نمازوں کو ان کے اوقات پر رکوع اور سجود کو مکمل کرتے ہوئے ادا کرنا۔نمازوں کی پابندی بڑی ضروری ہے۔پھر فرمایا کہ جب دشمن کے سفیر تمہارے پاس آئیں تو ان کا اکرام کرنا، عزت کرنا۔انہیں بہت کم ٹھہر انا۔تمہارے پاس زیادہ دیر نہ ٹھہریں اور وہ تمہارے لشکر سے جلد نکل جائیں۔لشکر میں زیادہ دیر نہ رہیں جلدی نکل جائیں تاکہ وہ اس لشکر کے بارے میں کچھ جان نہ سکیں۔ان کو اپنے کاموں کے بارے میں مطلع نہ کرنا۔بڑی مختصر باتیں بتانا۔فرمایا کہ اپنے لوگوں کو ان سے بات کرنے سے روک دینا۔ہر ایک کو ان سفیروں سے ملنے نہ دینا۔یہ نہیں کہ جہاں چاہیں وہ چلے جائیں اور ملتے چلے جائیں۔نہیں۔یہ