اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 341
اصحاب بدر جلد 2 341 حضرت ابو بکر صدیق میرے نزدیک ان سے افضل نہیں ہو لیکن میرے خیال میں جو جنگی مہارت انہیں حاصل ہے تمہیں نہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے اور تمہارے لیے خیر کا ہی ارادہ کرے۔والسلام۔782 حضرت خالد کی عراق سے شام کی طرف روانگی کے بارے میں لکھا ہے کہ جب حضرت ابو بکر کا خط حضرت خالد کو ملا تو اس کی مختلف روایات ہیں کہ وہ آٹھ سو یا چھ سو یا پانچ سو یا ہر اروں میں بھی ہیں، نو ہزار تک بھی ہے یا چھ ہزار کی بھی۔یہ جمعیت لے کر شام کی طرف روانہ ہو گئے۔کچھ روایتوں میں سینکڑوں میں بات آتی ہے ، کچھ میں ہزاروں میں۔بہر حال وہ شام کی طرف روانہ ہو گئے۔جب حضرت خالد بن ولید قراقر مقام پر پہنچے تو آپ نے وہاں کے لوگوں پر حملہ کیا اور پھر وہاں سے صحرا کو عبور کرتے ہوئے انتہائی پر صعوبت سفر طے کرنے کے بعد اپنا سیاہ رنگ کا جھنڈا لہراتے ہوئے دمشق کے قریب ثَنِيَّةُ الْعُقَاب پہنچے۔اس کے بارے میں، اس جھنڈے کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ رسول اللہ صلی الی و کم کا جھنڈ ا تھا جس کا نام عقاب تھا۔اس جھنڈے کی وجہ سے اس گھاٹی کا نام بھی ثَنِيَّةُ الْعُقَاب پڑا 783 دمشق کا محاصرہ اس کے بعد دمشق کے مشرقی دروازے سے ایک میل کے فاصلے پر حضرت خالد نے ایک جگہ قیام فرمایا۔بعض روایات میں مذکور ہے کہ حضرت ابو عبیدہ آپ کو یہیں ملے تھے اور دشمن کا محاصرہ اصل میں اسی روز شروع ہو ا تھا۔بعض روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت خالد نے دمشق کے سامنے زیادہ دن تک قیام نہ کیا بلکہ آگے بڑھ کر قاة بضری پہنچے۔جب حضرت خالد بن ولید مسلمانوں کے ساتھ بھری پہنچے تو تمام لو یہاں جمع ہو گئے اور سب نے یہاں کی جنگ میں انہیں اپنا امیر بنالیا۔انہوں نے شہر کا محاصرہ کیا۔بعض کہتے ہیں کہ اس جنگ کے قائد حضرت یزید بن ابو سفیان تھے کیونکہ یہ دمشق کی عملداری میں تھا جس کے وہ والی اور قائد تھے۔یہاں کے باشندوں نے اس پر صلح کی کہ مسلمانوں کو جزیہ دیں گے اور مسلمان ان کی جانوں اور ان کے اموال اور ان کی اولاد کو امان دیں گے۔پھر معرکہ اجنادين یا اجنادین ہے۔دونوں لکھے ہیں۔اس کے بارے میں لکھا ہے کہ فلسطین کے نواحی علاقوں میں سے یہ ایک معروف بستی کا نام ہے۔185 بصری کی فتح کے بعد حضرت خالد ، حضرت ابو عبیدہ ، حضرت شرحبیل اور حضرت یزید بن ابو سفیان کو ساتھ لے کر حضرت عمرو بن عاص کی مدد کے لیے فلسطین کی طرف روانہ ہوئے۔حضرت عمر ہو اس وقت فلسطین کے نشیبی علاقوں میں مقیم تھے۔آپ اسلامی لشکروں سے آکر ملنا چاہتے تھے مگر رومی لشکر ان کے تعاقب میں تھا اور اس کوشش میں تھا کہ انہیں جنگ پر مجبور کر دے۔رومیوں نے 784