اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 334 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 334

حاب بدر جلد 2 334 حضرت ابو بکر صدیق عرض کیا کتنا بہتر ہے میرے لیے کہ میں آپ کے گمان کو سچ کر دکھاؤں اور آپ کی رائے میرے بارے میں خطانہ کرے۔حضرت عمرو بن عاص اپنے لشکر کے ساتھ روانہ ہو گئے۔آپ کی فوج چھ سات ہزار کے درمیان تھی اور ان کی منزل مقصود فلسطین تھی۔حضرت عمرو نے ایک ہزار مجاہدین پر مشتمل دستہ تیار کیا اور حضرت عبد اللہ بن عمر کی قیادت میں روم کی جانب پیش قدمی کے لیے روانہ کیا۔یہ دستہ رومیوں سے جا ٹکرایا اور دشمن کی قوت کو پارہ پارہ کر کے ان پر فتح حاصل کی اور بعض قیدیوں کے ساتھ واپس ہوا۔حضرت عمرو بن عاص نے ان قیدیوں سے پوچھ گچھ کی جس سے پتہ چلا کہ رومی فوج روئیں کی قیادت میں مسلمانوں پر اچانک حملہ کرنے کی تیاری میں ہے۔ان معلومات کی روشنی میں حضرت عمر نے اپنی فوج کو منظم کیا۔جب رومی حملہ آور ہوئے تو مسلمان ان کا حملہ روکنے میں کامیاب ہو گئے اور رومی فوج کو واپس ہونے پر مجبور کر دیا اور اس کے بعد ان پر جوابی حملہ کر کے دشمن کی قوت کو تباہ کر دیا اور راہِ فرار اختیار کرنے اور میدان چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔اسلامی فوج نے ان کا پیچھا کیا اور روم کے ہزاروں فوجی مارے گئے اور اسی پر یہ معرکہ ختم ہو گیا۔771 ان لشکروں کو روانہ کر کے حضرت ابو بکر نے اطمینان کا سانس لیا۔انہیں کامل امید تھی کہ اللہ ان فوجوں کے ذریعہ سے مسلمانوں کو رومیوں پر غلبہ عطا فرمائے گا۔وجہ یہ تھی کہ ان میں ایک ہزار سے زیادہ مہاجر اور انصار صحابہ شامل تھے جنہوں نے ہر موقع پر انتہائی وفاداری کا ثبوت دیا تھا اور ابتدائے اسلام میں رسول اللہ صلی الیکم کے دوش بدوش لڑائیوں میں حصہ لیا تھا۔ان میں وہ اہل بدر بھی شامل تھے جن کے متعلق آپ ، یعنی آپ صلی لی ہم نے اپنے رب کے حضور یہ التجا کی تھی کہ اے اللہ ! اگر آج تو نے اس چھوٹی سی جماعت کو ہلاک کر دیا تو آئندہ پھر کبھی زمین پر تیری پرستش نہیں کی جائے گی۔172 ہر قل کی جو شیلی تقریر پھر لکھا ہے کہ شاہ روم ہر قل ان دنوں فلسطین میں تھا۔جب اسے مسلمانوں کی تیاریوں کی خبریں ملیں تو اس نے علاقے کے سرداروں کو جمع کیا اور ان کے سامنے جوشیلی تقریریں کر کے انہیں مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے پر آمادہ کیا۔اس نے مسلمانوں کے متعلق کہا کہ یہ بھو کے ننگے ، غیر مہذب لوگ صحرائے عرب سے نکل کر تم پر حملہ آور ہونا چاہتے ہیں۔تم انہیں ایسا منہ توڑ جواب دو کہ پھر یہ کبھی تمہاری طرف دیکھنے کی بھی جرات نہ کر سکیں۔سامان حرب اور فوجیوں کے ذریعہ سے تمہاری پوری مدد کی جائے گی۔جو امر ا تم پر مقرر کیے گئے ہیں تم دل و جان سے ان کی اطاعت کرو۔فتح تمہاری ہو گی۔رقل نے وہاں کے لوگوں کو یہ تقریر کی عربوں کے خلاف ابھارنے میں، مسلمانوں کے خلاف ابھارنے میں۔فلسطین کے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف آمادہ پیکار کر کے ہر قل دمشق آیا۔وہاں سے حمص اور