اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 274 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 274

حاب بدر جلد 2 274 حضرت ابو بکر صدیق دیباچہ تفسیر القرآن میں یہ تفصیل حضرت مصلح موعودؓ نے لکھی ہے۔جب باؤ ان کا انتقال ہو گیا تو اس کے بعد رسول اللہ صلی علی کرم نے اپنے امراء کو یمن کے مختلف علاقوں پر عامل مقرر فرمایا اور مُعاذ بن جبل یمن اور حضر موت کے ان تمام علاقوں کے معلم تھے۔لہذاوہ ان سب مقامات کا دورہ کرتے رہتے تھے۔اسود جو کہ ایک کا ہن تھا اور یمن کے جنوبی حصہ میں رہتا تھا اس نے شعبدہ بازی اور مُسَجّع اور لی گفتگو کی وجہ سے بہت جلد لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی اور اس نے نبوت کا دعویٰ بھی کر دیا۔وہ لوگوں پر یہ ظاہر کرتا کہ اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے جو ہر بات اس کو بتا دیتا ہے اور اس کے دشمنوں کے منصوبے اور راز فاش کر دیتا ہے جس پر سادہ اور جاہل لوگوں کی بہت بڑی تعد اد اس کے گرد اکٹھی ہو گئی۔دراصل اسود عنسی نے یہ نعرہ بھی لگایا کہ یمن صرف یمنیوں کا ہے تو یمن کے باشندے قومیت کے اس نعرے سے بہت متاثر ہوئے۔یہ نعرہ بڑا پرانا ہے آج بھی یہی استعمال ہوتا ہے اور دنیا میں جو فساد پھیلا ہوا ہے اسی وجہ سے ہے۔بہر حال کیونکہ یمن میں اسلام ابھی پوری طرح لوگوں میں راسخ نہیں ہوا تھا اس لیے ان لوگوں نے اجنبی تسلط سے آزاد ہونے کے لیے اسود کی قومیت کے نعرے پر لبیک کہا اور اس کے ساتھ مل گئے۔جب یہ تشویشناک اطلاعات مدینہ پہنچیں تو رسول اللہ صل اللہ ولی غزوہ موتہ کے شہداء کا انتقام لینے اور شمالی جانب سے حملوں کی روک تھام کے لیے حضرت اسامہ بن زید کے لشکر کی تیاریوں میں مشغول تھے۔آپ صلی اللہ تم نے یمن کے سرداروں کے نام پیغام بھیجا کہ وہ اپنے طور پر آسود کا مقابلہ جاری رکھیں اور جو نہی اسامہ کا لشکر فتح یاب ہو کر لوٹے گا تو اسے یمن کی جانب روانہ کر دیا جائے گا۔اسود عنسی کی فوج میں سات سو گھڑ سوار تھے۔اس نے بڑی فوج بنائی تھی اور اونٹ سوار اس کے علاوہ تھے۔بعد میں اس کا اقتدار مضبوط ہوتا گیا۔قبیلہ مذحج میں اس کا قائم مقام عمر و بن مغدی گرب تھا۔عمرو بن مغدِی گرب یمن کا مشہور شہسوار تھا، شاعر تھا اور مقرر تھا۔اس کی کنیت ابو ثور تھی۔دس ہجری میں اس نے اپنے قبیلہ بنو زبید کے وفد کے ساتھ آنحضرت صلی الم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا تھا۔پھر آپ صلی یی کم کی وفات کے بعد یہ مرتد ہو گیا لیکن بعد میں پھر حق کی طرف رجوع کر لیا اور جنگ قادسیہ میں کار ہائے نمایاں انجام دیے اور حضرت عمر کی خلافت کے آخری ایام میں اس کا انتقال ہوا۔667 666 بہر حال لکھا ہے کہ اسود عنسی نے پہلے اہل نجران پر حملہ کر کے حضرت عمر و بن حزم اور حضرت خالد بن سعید کو وہاں سے نکال دیا۔اس کے بعد اس نے صنعاء پر چڑھائی کی۔وہاں حضرت شھر بن باذان نے اس کا مقابلہ کیا لیکن وہ شہید ہو گئے۔حضرت معاذ بن جبل ان دنوں صنعاء میں ہی تھے مگر اس صور تحال کے پیش نظر حضرت ابو موسی کے پاس تارب چلے گئے جہاں سے وہ دونوں حضر موت چلے گئے۔اس طرح اسود عنسی یمن کے تمام علاقے پر قابض ہو گیا۔اسود عنسی نے حضرت شہر بن باذان کی