اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 260 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 260

حاب بدر جلد 2 260 حضرت ابو بکر صدیق قبائل میں سے جس قبیلے کے پاس سے تم گزرو تو اسے بنو بکر بن وائل سے جنگ کی ترغیب دلانا کیونکہ وہ ایران کے بادشاہ کسری کے مقرر کردہ منذر بن نعمان بن منذر کے ساتھ آئے ہیں۔انہوں نے یعنی اس بادشاہ نے اس کے سر پر تاج رکھا ہے اور اللہ کے نور کو مٹانے کا ارادہ کیا ہے اور اولیاء اللہ کو قتل کیا ہے۔پس تم لَا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا اللہ۔یعنی نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کی طاقت ہے مگر اللہ کے ذریعہ ، پڑھتے ہوئے روانہ ہو جاؤ۔628 حضرت علاء بن حضر میں روانہ ہو گئے۔جب وہ یمامہ کے قریب سے گزرے تو حضرت ثمامہ بن اثال بنو حنیفہ کی ایک جماعت کے ساتھ ان سے آملے۔حضرت اُثال ان سے آملے۔ان کے علاوہ قیس بن عاصم بھی اپنے قبیلہ بنو تمیم کے ساتھ حضرت علاء بن حضرمی کے لشکر میں شامل ہو گئے۔اس سے پہلے قیس بن عاصم منکرین زکوۃ میں شامل تھے اور انہوں نے قبیلہ کی زکواۃ مدینہ بھیجنی بالکل بند کر دی تھی اور ز کو پکا جمع شد و مال لوگوں کو واپس کر دیا تھا لیکن حضرت خالد بن ولید نے جب یمامہ میں بنو حنیفہ کو زیر کر لیا تو قیس بن عاصم نے مسلمانوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے میں ہی عافیت سمجھی اور اپنے قبیلے بنو تمیم سے زکوۃ اکٹھی کی اور حضرت علاء بن حضرمی کے لشکر میں شامل ہو گئے۔گمشدہ اونٹوں کا معجزانہ طور پر مل جانا پانی کا چشمہ جاری ہونا 629 حضرت علاء کا لشکر دھنا کے راستے بحرین کی طرف چلا۔علاء اپنے لشکر کو دھنا کے راستے بحرین کی طرف لے کر چلے۔دھنا: یہ بھی دیار بنو تمیم میں بصرہ سے مکہ کے راستے میں ایک جگہ ہے۔وہ کہتے ہیں جب ہم اس کے درمیان پہنچے تو انہوں نے ہمیں پڑاؤ کا حکم دیا۔راوی نے کہا کہ رات کے اندھیرے میں اونٹ بے قابو ہو کر بھاگ گئے۔ان میں سے کسی کے پاس نہ کوئی اونٹ رہانہ توشہ نہ توشہ دان نہ خیمہ۔سب کا سب اونٹوں پر ریگستان میں غائب ہو گیا یعنی اونٹوں پر لد ا ہو اتھا۔اونٹ چلے گئے تو کچھ بھی پاس نہیں رہا اور یہ واقعہ اس وقت ہوا جب لوگ سواریوں سے اتر چکے تھے لیکن ابھی اپنا سامان نہ اتار سکے تھے۔اس وقت وہ رنج و غم میں مبتلا ہوئے۔سب اپنی زندگیوں سے مایوس ہو کر ایک دوسرے کو وصیت کرنے لگے۔اتنے میں حضرت علا کے منادی نے سب کو جمع ہونے کا حکم دیا۔سب ان کے پاس جمع ہوئے۔حضرت علاء نے کہا میں یہ کیا پریشانی اور اضطراب تم میں دیکھ رہا ہوں اور تم لوگ اس قدر فکر مند کیوں ہو۔لوگوں نے کہا یہ تو کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جس پر ہمیں مورد الزام قرار دیا جائے۔ہمارے اونٹ دوڑ گئے ہیں۔ہماری یہ حالت ہے کہ اگر اسی طرح صبح ہو گئی تو ابھی آفتاب اچھی طرح طلوع بھی نہیں ہونے پائے گا کہ ہم سب ہلاک ہو چکے ہوں گے۔حضرت علا ٹا نے کہا: اے لوگو ! ڈرو نہیں۔کیا تم مسلمان نہیں ہو ؟ کیا تم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے نہیں آئے ؟ کیا تم اللہ کے مددگار نہیں ہو ؟ سب نے کہا بے شک ہم ہیں۔حضرت علاء نے کہا کہ تمہیں خوشخبری ہو کیونکہ اللہ ہر گز ایسے لوگوں کو جس حال میں تم ہو کبھی نہیں چھوڑے گا۔طلوع فجر کے ساتھ صبح کی نماز کی اذان