اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 237 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 237

حاب بدر جلد 2 237 حضرت ابو بکر صدیق دیتا۔میں نے اس طرح حملہ کیا کہ زندگی سے مایوس ہو گیا اور موت کا یقین ہو گیا اور رہا مسئلہ مخلصہ کی فریب دہی کا تو میں نے اپنی رائے میں غلطی نہیں کی لیکن مجھے علم غیب نہیں ہے۔جو کچھ کیا اللہ نے مسلمانوں کے حق میں خیر کیا ہے۔انہیں زمین کا وارث بنایا اور انجام کار متقیوں کے لیے ہے۔جب یہ خط حضرت ابو بکر کو موصول ہوا تو آپ کا غصہ جاتا رہا اور قریش کی ایک جماعت نے اور جو حضرت خالد شکا خط لے کر آیا تھا اس نے بھی حضرت خالد کی طرف سے عذر خواہی کی تو حضرت ابو بکر نے فرمایا تم سچ کہہ رہے ہو اور حضرت خالد کی وضاحت اور معذرت قبول فرمائی۔58 568 عمان کی طرف آنحضرت صلی ال عالم کا خط اور قبول اسلام کئی مہمات تھیں۔پہلی مہم جو کافی لمبی تھی وہ تو بیان ہوئی، جو بقیہ دس مہمات ہیں ان میں سے دو اور تین کے ذکر میں یہ آتا ہے کہ حضرت حذیفہ اور حضرت عرفجہ کے ذریعہ سے یہ مہم سر کی گئی جو عمان کے مرتد باغیوں کے خلاف مہم تھی۔عمان بحرین کے قریب یمن کا ایک شہر ہے۔جو خلیج فارس اور بحیرہ عرب کے درمیان واقع ہے جس میں ان دنوں آج کے متحدہ عرب امارات کے مشرقی علاقے بھی شامل تھے۔یہاں بت پرست قبیلہ ازد اور دیگر قبائل آباد تھے جو مجوسی تھے۔مسقط، صُحار اور دبا یہاں کے ساحلی شہر تھے۔آنحضرت صلی علی کے عہد مبارک میں عمان ایرانیوں کی عمل داری میں شامل تھا اور ان کی طرف سے جنیفر نامی شخص عامل مقرر تھا۔اس علاقے میں مجوسی مذہب پھیلا ہوا تھا۔رسول اللہ صلی الی یکم نے 18 ہجری میں حضرت ابو زید انصاری کو تبلیغ اسلام کی غرض سے اور حضرت عمرو بن عاص کو یہاں کے دور کیس بھائیوں جیفر بن جلندی اور عباد بن مجلندی کے نام خط دے کر بھیجا۔رسول اللہ صلی اللی کام کے خط کا مضمون یہ تھا: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔یہ خط محمد صلی اللی علم اللہ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے جیفر اور عباد پسر ان جاندی کی طرف ہے۔سلامتی ہو اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی۔میں تمہیں اسلام لانے کی دعوت دیتا ہوں۔تم اسلام قبول کر لو، محفوظ رہو گے۔میں اللہ کا رسول ہوں اور ساری دنیا کی طرف بھیجا گیا ہوں تاکہ ہر اس شخص کو ڈراؤں جو زندہ ہے اور کافروں پر اتمام حجت کروں۔اگر تم اسلام لے آؤ گے تو میں تمہیں بدستور وہاں کا حاکم رہنے دوں گا اور اگر اسلام قبول کرنے سے انکار کرو گے تو تمہاری ریاست تم سے چھن جائے گی۔بعض روایات کے مطابق کافی دن کی بحث کے بعد ان بھائیوں نے اسلام قبول کیا اور ایک روایت کے مطابق عمان کے حاکم جنیفر نے کہا مجھے اسلام لانے میں تو کوئی عذر نہیں لیکن یہ ڈر ہے کہ اگر میں نے یہاں سے زکوۃ اکٹھی کر کے مدینہ بھیجی تو میری قوم مجھ سے بگڑ جائے گی۔اس پر حضرت عمرو بن عاص نے اس کو پیشکش کی کہ اس علاقے سے زکوۃ کا جو مال وصول ہو گاوہ اسی علاقے کے غرباء پر خرچ کر دیا جائے گا۔چنانچہ 569