اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 236
اصحاب بدر جلد 2 236 حضرت ابو بکر صدیق جانے والوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ ہو جانے کے بعد حضرت خالد بن ولید کی ایک شادی ہوئی تھی اس کا ذکر ملتا ہے۔مؤرخین کے مطابق حضرت ابو بکر کو جب اس شادی کی خبر ملی تو حضرت ابو بکر حضرت خالد سے ناراض ہوئے لیکن جب حضرت خالد نے تفصیلی وضاحت بذریعہ خط پیش خدمت کی تو حضرت ابو بکر کی ساری ناراضگی جاتی رہی۔اس کی تفصیلات کے مطابق صلح ہو جانے کے بعد خالد رضی اللہ عنہ نے مُجاءَ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی آپ سے کر دے۔مجامعہ کو مالک بن نویرہ کی بیوی لیلی ام تمیم کا واقعہ اور حضرت ابو بکر کا حضرت خالد سے شادی کی ناراضگی کا علم تھا چنانچہ اس نے کہا کہ رک جائیے۔آپ میری کمر توڑ دینے کا باعث بنیں گے اور خود بھی حضرت ابو بکر کے عتاب سے بچ نہ سکیں گے لیکن حضرت خالد نے کہا تو اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کر دے چنانچہ اس نے اپنی بیٹی کی شادی آپ سے کر دی۔ابو بکر یمامہ کی خبروں کے برابر منتظر رہتے تھے اور آپ کو خالد کے خبر رساں کا انتظار رہتا تھا۔ایک روز آپ شام کے وقت مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت کے ساتھ ایک مقام پر تھے کہ وہاں خالد رضی اللہ عنہ کے فرستادہ ابو خیمہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی جبکہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو ان سے دریافت کیا: پیچھے کیا خبریں ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ خیر ہے اے خلیفہ رسول! اللہ تعالیٰ نے ہمیں یمامہ پر فتح نصیب فرمائی ہے اور بیجیے یہ خالد رضی اللہ عنہ کا خط ہے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فوراً سجدہ شکر بجالایا اور فرمایا مجھ سے معرکے کی کیفیت بیان کرو کیسے ہوا۔اس حوالے سے ایک پہلے بھی روایت گزر چکی ہے۔بہر حال ابو خیثمہ نے معرکہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ خالد نے کیا کیا، کس طرح فوج کی صف بندی کی ، کون کون سے صحابہ شہید ہوئے اور کس طرح ہمیں دشمن کی پسپائی کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے ہمیں ایسی چیزوں کا عادی بنا دیا جسے ہم اچھی طرح نہیں جانتے تھے۔پھر حضرت خالد کی شادی کا بھی ذکر ہوا۔حضرت ابو بکر نے انہیں خط لکھا کہ اے ام خالد کے بیٹے ! تمہیں عورتوں سے شادی کی سو جبھی ہے اور ابھی تمہارے صحن میں ایک ہزار دو سو مسلمانوں کا خون خشک نہیں ہوا اور پھر مخالہ نے تمہیں فریب دے کر مصالحت کر لی حالا نکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر مکمل قدرت عطا کر دی تھی۔مجلہ سے مصالحت اور اس کی بیٹی سے شادی کی وجہ سے خلیفہ رسول ابو بکر کی طرف سے یہ عتاب خالد رضی اللہ عنہ کو پہنچا تو آپ نے جوابی خط حضرت ابو بکر کی خدمت میں روانہ کیا جس میں اپنے موقف کی وضاحت اور اس کے دفاع میں لکھا۔حضرت خالد نے لکھا کہ انا بعد ! دین کی قسم ، میں نے اس وقت تک شادی نہیں کی جب تک خوشی مکمل نہ ہو گئی اور استقرار حاصل نہ ہو گیا۔میں نے ایسے شخص کی بیٹی سے شادی کی ہے کہ اگر میں مدینہ سے پیغام بھیجتا تو وہ انکار نہ کرتا۔معاف کیجیے ، میں نے اپنے مقام سے پیغام دینے کو ترجیح دی۔اگر آپ کو یہ رشتہ دینی یا دنیاوی اعتبار سے نا پسند ہو تو میں آپ کی مرضی پوری کرنے کے لیے تیار ہوں۔رہا مسئلہ مسلم مقتولین کی تعزیت کا تو اگر کسی کا حزن و غم کسی زندہ کو باقی رکھ سکتا یا مردہ کو لوٹا سکتا تو میر حزن و غم زندہ کو باقی رکھتا اور مردہ کو لوٹا