اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 227
محاب بدر جلد 2 227 حضرت ابو بکر صدیق شدید جنگ ہوئی۔انصار نے مدد کے لیے پکارا اور مسلمان مدد کے لیے پہنچے۔جب ہم باغ کے سامنے پہنچے تو باغ کے دروازے پر اثر دہام ہو گیا اور ہمارے دشمن باغ میں ایک طرف تھے اور اس جانب تھے جس طرف مسیلمہ تھا۔ہم اس میں زبر دستی گھس گئے اور کچھ دیر تک ہم نے ان سے جنگ کی۔اللہ کی قسم! میں نے ان سے زیادہ اپنی مدافعت کرنے والا نہیں دیکھا اور میں نے دشمن خد امسیلمہ کا قصد کیا کہ اسے پاؤں اور دیکھوں۔میں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میں اس کو چھوڑوں گی نہیں۔اس کو ماروں گی یا خود مر جاؤں گی۔لوگ آپس میں حملہ آور ہوئے ان کی تلواریں آپس میں ٹکرانے لگیں گویا کہ وہ بہرے ہو گئے اور سوائے تلوار کی ضرب کی آواز کے اور کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔یہاں تک کہ میں نے اللہ کے دشمن کو دیکھا۔میں نے اس پر حملہ کر دیا۔ایک مو میرے سامنے آیا اس نے میرے ہاتھ پر ضرب لگائی اور اسے کاٹ دیا۔اللہ کی قسم! میں ڈگمگائی نہیں تاکہ میں اس خبیث تک پہنچ جاؤں اور وہ زمین پر پڑا تھا اور میں نے اپنے بیٹے عبد اللہ کو وہاں پایا اس نے اسے مار دیا تھا۔ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت ام عمارہ بیان کرتی ہیں کہ میرا بیٹا اپنے کپڑے سے اپنی تلوار کو صاف کر رہا تھا میں نے پوچھا کیا تم نے مسیلمہ کو قتل کیا ہے ؟ اس نے کہا ہاں اے میری والدہ۔میں نے اللہ کے سامنے سجدہ شکر کیا حضرت ام عمارہ کہتی ہیں کہ اللہ نے دشمنوں کی جڑ کاٹ دی۔جب جنگ ختم ہو گئی اور میں اپنے گھر واپس لوٹی تو حضرت خالد بن ولید ایک عرب طبیب کو میرے پاس لے کر آئے۔اس نے ابلتے ہوئے تیل کے ساتھ میر اعلاج کیا۔اللہ کی قسم! یہ علاج میرے لیے ہاتھ کٹنے سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔حضرت خالد میر ا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے اور ہم سے حسن سلوک کرتے تھے۔ہمارا حق ہمیشہ یاد رکھتے تھے اور ہمارے بارے میں نبی کریم صلی علیم کی وصیت کا خیال رکھتے تھے۔عباد کہتے ہیں میں نے کہا اے میری دادی! جنگ یمامہ میں مسلمانوں کے زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ان سے سوال پوچھا۔انہوں نے کہا ہاں اے میرے بیٹے۔اللہ کا دشمن مارا گیا اور مسلمان سب کے سب ہی زخمی تھے۔میں نے اپنے دونوں بھائیوں کو اس حال میں زخمی دیکھا کہ ان میں زندگی کی کوئی رمق نہیں تھی۔لوگ یمامہ میں پندرہ روز ٹھہرے۔جنگ ختم ہو چکی تھی اور زخموں کی وجہ سے انصار اور مہاجرین میں سے بہت تھوڑی تعداد حضرت خالد کے ساتھ نماز ادا کرتی تھی۔وہ کہتی ہیں میں جانتی ہوں کہ بنو طی ، اس روز اچھی طرح آزمائے گئے۔میں نے اس روز عدی بن حاتم کو پکارتے ہوئے سنا، صبر کر وصبر کرو میرے ماں باپ تم پر قربان۔اور میرے بیٹے زید نے اس روز بڑی بہادری سے جنگ کی۔ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت ام عمارہ یمامہ کے روز زخمی ہوئیں۔تلوار اور نیزے کے گیارہ زخم انہیں لگے علاوہ ازیں ان کا ایک ہاتھ کٹ گیا۔حضرت ابو بکر ان کا حال دریافت کرنے تشریف لاتے رہے۔کعب بن عجرہ نے اس دن سخت جنگ کی۔اس دن لوگوں کو سخت ہزیمت اٹھانی