اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 221 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 221

اصحاب بدر جلد 2 221 حضرت ابو بکر صدیق اب کو تاہی نہ کرنا۔آگے بڑھو اور کسی کو بیچ کر جانے نہ دو۔اس پر مسلمان ان پر چڑھ دوڑے۔مسیلمہ کذاب کا میدان جنگ سے بھاگ جانا 545 صحابہ کرام نے اس معرکے میں انتہائی صبر و استقامت کا ایسا ثبوت دیا جس کی مثال نہیں ملتی اور برابر دشمن کی طرف بڑھتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے خلاف فتح عطا فرمائی اور کفار پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا، انہیں قتل کرتے رہے اور تلواریں ان کی گردنوں پر چلاتے رہے یہاں تک کہ انہیں ایک باغ میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔بنو حنیفہ کے ایک سردار محکم بن طفیل نے بھاگتے ہوئے لوگوں سے کہا کہ اے لوگو! اس باغ میں داخل ہو جاؤ۔یہ بہت وسیع باغ تھا جس کے گرد دیوار میں تھیں۔محکم بن طفیل نے بنو حنیفہ کا تعاقب کرنے والے مسلمانوں کا مقابلہ کرنا شروع کر دیا۔یہ باغ میدانِ جنگ کے قریب ہی تھا اور مسیلمہ کی ملکیت تھا۔اس باغ کو حدیقۃ الرحمان کہا جاتا تھا، جس طرح مسیلمہ کو رحمان الیمامہ کہا جاتا تھا لیکن اس جنگ کے دوران اس باغ میں کثرت سے دشمنوں کے مارے جانے کی وجہ سے اس باغ کو حدیقۃ الموت یعنی موت کا باغ کہا جانے لگا۔مسیلمہ کذاب بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس باغ میں چلا گیا۔حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر نے دیکھا کہ بنو حنیفہ کا ایک سردار محکم خطاب کر رہا ہے۔انہوں نے اس پر تیر چلا کر اس کو قتل کر دیا۔بنو حنیفہ نے باغ کا دروازہ بند کر دیا اور صحابہ نے چاروں طرف سے اس باغ کا محاصرہ کر لیا۔مسلمان کوئی جگہ تلاش کرنے لگے کہ کسی طرح اس باغ کے اندر جایا جا سکے لیکن یہ قلعہ نما باغ تھا۔باوجود تلاش کے اس کے اندر جانے کی کوئی جگہ نہ مل سکی۔آخر حضرت براء بن مالک جو حضرت انس بن مالک کے بھائی تھے۔آپؐ نے غزوہ اُحد اور خندق میں رسول اللہ صلی الی ریم کے ساتھ حصہ لیا تھا۔بہت بہادر تھے۔آپ نے کہا کہ مسلمانو ! اب صرف ایک طریقہ ہے کہ تم مجھے اٹھا کر باغ میں پھینک دو، میں اندر جا کر دروازہ کھول دوں گا مگر مسلمان یہ گوارا نہیں کر سکتے تھے کہ ان کا ایک عالی مرتبہ ساتھی ہزاروں دشمنوں کے درمیان اپنی جان گنوا دے۔انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا لیکن حضرت براء بن مالک نے اصرار کرنا شروع کیا اور کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ مجھے باغ میں دیوار کے اندر کی طرف پھینک دو۔آخر مجبور ہو کر مسلمانوں نے انہیں باغ کی دیوار پر چڑھا دیا۔دیوار پر چڑھ ھ کر جب حضرت براء بن مالک نے دشمن کی بڑی تعداد کو دیکھا تو ایک لمحے کے لیے رکے لیکن پھر اللہ کا نام لے کر باغ کے دروازے کے سامنے کو دپڑے اور دشمنوں سے لڑتے اور قتل کرتے دروازے کی طرف بڑھنے لگے۔آخر کار آپ دروازے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور باغ کا دروازہ کھول دیا۔مسلمان باہر دروازہ کھلنے ہی کے منتظر تھے۔جو نہی دروازہ کھلا وہ باغ میں داخل ہو گئے اور دشمنوں کو قتل کرنے لگے۔بنو حنیفہ مسلمانوں کے سامنے سے بھاگنے لگے لیکن وہ باغ سے باہر نہیں نکل سکتے تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں