اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 8
اصحاب بدر جلد 2 8 حضرت ابو بکر صدیق الخاص بندوں میں سے بنایا کیا تمہیں کسی ایسے شخص کا علم ہے جسے قاني افدین کے نام سے موسوم کیا گیا اور نبی دو جہان کے رفیق کا نام دیا گیا ہو اور اس فضیلت میں شریک کیا گیا ہو کر ان الله معنا اور اسے دو تائید یافتہ میں سے ایک قرار دیا گیا ہو۔کیا تم کسی ایسے شخص کو جانتے ہو جس کی قرآن میں اس تعریف جیسی تعریف کی گئی ہو اور جس کے مخفی حالات سے شبہات کے ہجوم کو دور کر دیا گیا ہو اور جس کے بارے میں نصوص صریحہ سے نہ کہ ظنی شکی باتوں سے یہ ثابت ہو کہ وہ مقبولین بارگاہ الہی میں سے ہیں۔بخدا اس قسم کا صریح ذکر جو تحقیق سے ثابت شدہ ہو جو حضرت ابو بکر صدیق سے مخصوص ہے میں نے رب بيت عتیق کے صحیفوں میں کسی اور شخص کے لئے نہیں دیکھا۔پس اگر تجھے میری اس بات کے متعلق شک ہو یا تمہارا یہ گمان ہو کہ میں نے حق سے گریز کیا ہے تو قرآن سے کوئی نظیر پیش کرو اور ہمیں دکھاؤ کہ فرقان حمید نے کسی اور شخص کے لئے ایسی صراحت کی ہو اگر تم سچوں میں سے ہو۔29 سر الخلافہ میں آپ نے یہ فرمایا۔صاحب الرسول پھر ایک لقب صاحب الرسول بھی ہے۔اس کا مطلب ہے رسول کا سا تھی۔حضرت ابو بکر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک جماعت سے کہا تم میں سے کون سورہ توبہ پڑھے گا۔ایک شخص نے کہا میں پڑھتا ہوں۔پھر جب وہ آیت اِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنُ کہ جب وہ اپنے ساتھی سے کہ رہا تھا کہ غم نہ کر، یہاں تک پہنچا تو حضرت ابو بکر رو پڑے اور فرمایا اللہ کی قسم! میں ہی آپ صلی الغیر ظلم کا سا تھی تھا۔30 آدم ثانی پھر آدم ثانی ایک لقب ہے۔حضرت ابو بکر کا یہ وہ لقب ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو عطا فرمایا ہے ، آپ نے حضرت ابو بکر کو آدم ثانی قرار دیا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ایک مکتوب میں بیان فرماتے ہیں ابو بکر جو اسلام کے آدم ثانی ہیں اور ایسا ہی حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما اگر دین میں سچے امین نہ ہوتے تو آج ہمارے لئے مشکل تھا جو قرآن شریف کی کسی ایک آیت کو بھی منجانب اللہ بتا سکتے۔314 سر الخلافہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں :۔ترجمہ اس کا یہ ہے کہ ”اور بخدا آپ اسلام کے لئے آدم ثانی اور خیر الانام ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کے انوار کے مظہر اول تھے۔32 پھر خلیل الرسول ایک لقب ہے۔سیرت کی کتابوں میں خلیل الرسول بھی حضرت ابو بکر کا لقب بیان کیا گیا ہے اور اس کی بنیاد کتب حدیث میں موجود ایک روایت ہے کہ آنحضور صلی اینم نے فرمایا: اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا۔چنانچہ صحیح بخاری میں ہے۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ