اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 173 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 173

حاب بدر جلد 2 الله سة 173 حضرت ابو بکر صدیق کا ارادہ ظاہر کرتا تھا اور خوف تھا کہ وہ مرتد ہو کر چلا جائے گا۔پھر ایسی صورت میں کیوں اس پر پہرہ مقرر نہ کیا گیا تا کہ اگر وہ مرتد ہو کر جانے لگے تو اس کو پکڑ لیا جاوے اور اس پر شرعی حد جاری کی جاوے۔کیوں صحابہ نے اس کو یہ نہ کہا کہ میاں اگر جان کی خیر چاہتے ہو تو ارتداد کا نام نہ لو کیونکہ اس شہر میں تو یہ قاعدہ جاری ہے کہ جو شخص اسلام لا کر پھر ارتداد اختیار کرتا ہے اس کو فوراً قتل کر دیا جاتا ہے۔پس اس اعرابی کا بار بار ارتداد کا اظہار کرنا اور اس کا آنحضرت صلی اللہ نیم کے پاس بار بار جانا اور آنحضرت صلی علیہ کرم کا اس کو ارتداد کے نتیجہ سے متنبہ نہ کرنا اور نہ صحابہ کو اس کے قتل کا حکم سنانا اور آخر کار اس کا بغیر کسی قسم کے تعرض کے مدینہ سے نکل جانا یہ سب امور صاف طور پر اس امر کے شاہد مبین ہیں کہ اسلام میں مرتد کے لیے کوئی شرعی حد مقرر نہ تھی۔پھر آنحضرت علی علیہ کا اس کے نکل جانے پر ایک طرح کی خوشی کا اظہار کرنا اور فرمانا کہ مدینہ ایک بھٹی کی طرح ہے جو میل کچیل کو پاکیزہ جوہر سے جدا کر دیتا ہے صاف ظاہر کرتا ہے کہ آپ اس اصول کے مخالف تھے کہ کسی کو جبر سے اسلام پر رکھا جاوے اور لوگوں کو جبری ذرائع اختیار کر کے ارتداد سے روکا جائے بلکہ اگر ناپاک انسان مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جاتا تو آپ اس پر ناخوش نہیں ہوتے تھے اور آپ یہ کوشش نہیں فرماتے تھے کہ اس کو اس کی مرضی کے خلاف جبر ااسلام میں رکھا جائے بلکہ ایسے شخص کا چلا جانا آپ کے نزدیک گویا خس کم جہاں پاک کے مصداق تھا۔اگر آپ کا یہ اصول ہو تا کہ جو شخص ایک دفعہ اسلام میں داخل ہو جائے اس کو ہر ممکن ذریعہ سے اسلام میں رہنے کے لیے مجبور کیا جائے اور اگر وہ کسی طرح بھی نہ مانے تو اس کو قتل کیا جائے تا اس کی مثال دوسروں کے لیے عبرت ہو تو چاہیے تھا کہ آپ اس اعرابی کے جانے پر خفا ہوتے اور صحابہ کو ڈانٹتے کہ تم نے اس کو کیوں جانے دیا؟ کیوں اس کو پکڑ کر مقتل کی دھمکی نہ دی اور چاہیے تھا کہ آپ صلی علیہ کم صحابہ کو حکم دیتے کہ دوڑو اور جہاں ہو اس خبیث کو پکڑ لاؤ تا اس کو قتل کی سزا دی جائے مگر آپ نے ایسا نہ کیا بلکہ دوسرے الفاظ میں یہ فرمایا کہ اچھا ہو اوہ چلا گیا۔وہ اس قابل نہ تھا کہ مسلمانوں میں رہے۔خدا تعالیٰ نے خود اس کو اپنے ہاتھ سے ہم سے جدا کر دیا۔غرض اس اعرابی کی مثال ایک قطعی اور یقینی ثبوت اس امر کا ہے کہ مرتد کے لیے کوئی شرعی سزا مقرر نہ تھی اور مسلمانوں میں قطعا یہ طریق جاری نہ تھا کہ وہ ہر ایک مرتد کو محض اس کے ارتداد کی وجہ سے قتل کر دیتے۔440 دوسرا ثبوت اس امر کا کہ مرتد کے لیے کوئی شرعی حد مقرر نہ تھی وہ شرائط ہیں جن کے ساتھ آنحضرت صلی علیم نے مقام حدیبیہ میں مشرکین مکہ کے ساتھ صلح کی۔صلح حدیبیہ کی حدیث میں لکھا۔جو براء بن عازب سے روایت ہے کہ نبی صلی لی ایم نے حدیبیہ کے دن مشرکین کے ساتھ تین باتوں پر صلح کی۔پہلی شرط یہ تھی کہ اگر مشرکین میں سے کوئی شخص مسلمان ہو کر آنحضرت صلی علیکم کے پاس جائے تو آپ اس کو مشرکین کی طرف واپس کر دیں گے۔دوسری شرط یہ تھی کہ اگر مسلمانوں میں سے کوئی شخص مرتد ہو کر مشرکین کی طرف چلا جائے تو مشرکین اس کو آپ کی طرف واپس نہیں کریں گے۔441