اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 171 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 171

اصحاب بدر جلد 2 171 حضرت ابو بکر صدیق اللہ بہت سننے والا اور دائمی علم رکھنے والا ہے۔قرآن کریم کی کچھ آیات بطور نمونہ پیش کی گئی ہیں جن میں دین کے نام پر کسی بھی قسم کی سختی، جبر اور سزا کی نفی کی گئی ہے اور مرتد ہونے والوں کا ذکر کر کے کسی بھی قسم کی سزا کا ذکر نہ کرنا ہماری راہنمائی کرتا ہے کہ مرتد ہونے والے کے لیے شریعت اسلامی کوئی جسمانی اور دنیاوی سزا مقرر نہیں کرتی۔ای قرآنی تعلیم اور نظریہ کی مزید تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ قرآن کریم میں جگہ جگہ منافقین کا ذکر موجود ہے اور منافقین کی برائیاں اس قدر زور سے بیان کی گئی ہیں کہ کفار کی برائیوں کا بھی اس طرح ذکر نہیں۔ان لوگوں کو فاسق بھی کہا گیا ہے۔ان کو کافر بھی کہا گیا ہے۔ان کے بارے میں اسلام لانے کے بعد کفر اختیار کرنے کا ذکر کیا گیا ہے لیکن ایسے کسی بھی منافق کے لیے نہ تو کسی قسم کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے اور تاریخ اسلام گواہ ہے کہ نہ ہی کسی منافق کو ان کے نفاق کی بنا پر کوئی سزا دی گئی۔چنانچہ منافقین کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : قُلْ أَنْفِقُوا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَنْ يُتَقَبَّلَ مِنْكُمْ إِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فَسِقِينَ وَ مَا مَنَعَهُمْ أَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَتُهُمْ إِلَّا أَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلَا يَأْتُونَ الصَّلوةَ إِلا وَهُمْ كُسَالَى وَلَا يُنْفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَرِهُونَ (التوبة: 53-54) تُو کہہ دے کہ خواہ تم خوشی سے خرچ کرو خواہ کراہت کے ساتھ ہر گز تم سے قبول نہیں کیا جائے گا۔یقینا تم ایک بد کردار قوم ہو۔اور انہیں کسی چیز نے اس بات سے محروم نہیں کیا کہ ان سے ان کے اموال قبول کیے جائیں سوائے اس کے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کا انکار کر بیٹھے تھے نیز یہ کہ وہ نماز کے قریب نہیں آتے تھے مگر سخت سستی کی حالت میں۔اور خرچ بھی نہیں کرتے تھے مگر ایسی حالت میں کہ وہ سخت کراہت محسوس کرتے تھے۔اس آیت کریمہ میں منافقین کو فاسق قرار دیا اور اللہ اور اس کے رسول کا کفر کرنے والا قرار دیا۔پھر ان کے کفر کی شدت کا ذکر مزید اس آیت میں بیان کیا کہ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَ لَقَدْ قَالُوا كَلِمَةً الْكُفْرِ وَ كَفَرُوا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَهَمُوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا وَ مَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْلَهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنْ يَتُوبُوا يَكُ خَيْرًا لَّهُمْ وَ إِنْ يَتَوَلَّوا يُعَذِّبُهُمُ اللَّهُ عَذَابًا أَلِيمًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِي وَلَا نَصِيرِ (التوب :74) وہ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا حالانکہ وہ یقیناً کفر کا کلمہ کہہ چکے ہیں جبکہ وہ اسلام لانے کے بعد کافر ہو گئے۔اور وہ ایسے پختہ ارادے رکھتے تھے جنہیں وہ پا نہیں سکے۔اور انہوں نے مومنوں سے پر خاش نہ رکھی مگر صرف اس وجہ سے کہ اللہ اور اس کے رسول نے ان کو اپنے فضل سے مالا مال کر دیا۔پس اگر وہ تو بہ کر لیں تو ان کے لیے بہتر ہو گا۔ہاں اگر وہ پھر جائیں تو اللہ انہیں دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب دے گا اور ان کے لیے ساری زمین میں نہ کوئی دوست ہو گا اور نہ مددگار۔اسی طرح سورہ تو بہ میں آیت 66 میں فرمایا۔تم ایمان لانے کے بعد کا فربن گئے ہو لَا تَعْتَذِرُوا قَدُ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ کوئی عذر پیش نہ کرو۔لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ کوئی عذر پیش نہ کر و یقینا تم اپنے ایمان لانے کے بعد کا فر ہو چکے ہو۔