اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 170
حاب بدر جلد 2 170 حضرت ابو بکر صدیق گے۔یہ اللہ کا فضل ہے وہ اس کو جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بہت وسعت عطا کرنے والا اور دائمی علم رکھنے والا ہے۔اس جگہ بھی مرتد ہونے والوں کا ذکر فرماتے ہوئے مومنوں کو یہ خوش خبری تو دی گئی کہ ایسے لوگوں کے بدلے میں اللہ تعالیٰ قوموں کی قومیں عطا فرمائے گا لیکن کہیں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ مرتد ہونے والوں کو قتل کر دو یا فلاں فلاں سزا دو۔پھر ایک اور آیت جو کہ ہر قسم کے شکوک و شبہات اور سوالات کو ختم کر دینے والی ہے وہ سورۃ النساء کی یہ آیت ہے۔فرمایا : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ اَمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كَفْرًا لَمْ يَكُنِ اللهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا ( النساء: 138) یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے پھر انکار کر دیا۔پھر ایمان لائے پھر انکار کر دیا۔پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے۔اللہ ایسا نہیں کہ انہیں معاف کر دے اور انہیں راستہ کی ہدایت دے۔پس بڑی واضح نفی ہے اس میں کہ مرتد کی سزا قتل نہیں ہے اور یہی تشریح ہمارے لٹریچر میں بھی کی جاتی ہے اور مفسرین نے بھی اس کی وضاحت کی ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے اس کی تھوڑی سی وضاحت اپنے ترجمۃ القرآن میں اس طرح فرمائی ہے کہ یہ آیت اس عقیدہ کی نفی کرتی ہے کہ مرتد کی سزا قتل ہے۔چنانچہ فرمایا اگر کوئی مرتد ہو جائے، پھر ایمان لے آئے، پھر مرتد ہو جائے ، پھر ایمان لے آئے تو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سپر د ہے اور اگر کفر کی حالت میں مرے گا تو لازمی طور پر جہنمی ہو گا۔اگر مرتد کی سزا قتل ہوتی تو اس کے بار بار ایمان لانے اور کفر کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا تھا۔438 اس کے علاوہ قرآن کریم میں کچھ اور آیات ہیں جو اصولی طور پر قتل مرتد کی نفی کرنے والی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّلِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا وَ إِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءِ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءَتْ مُرْتَفَقًا (الف (30) اور کہہ دے کہ حق وہی ہے جو تمہارے رب کی طرف سے ہو۔پس جو چاہے وہ ایمان لے آئے اور جو چاہے سو انکار کر دے۔یقینا ہم نے ظالموں کے لیے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیرے میں لے لیں گی اور اگر وہ پانی مانگیں گے تو انہیں ایسا پانی دیا جائے گا جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو گا جو اُن کے چہروں کو جھلس دے گا۔بہت ہی بُر ا مشروب ہے اور بہت ہی بُری آرام گاہ ہے۔دین میں کسی قسم کے جبر کی نفی کرتے ہوئے فرمایا: لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ وَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (ابق 257:7) دین میں کوئی جبر نہیں۔یقیناً ہدایت گمراہی سے کھل کر نمایاں ہو چکی۔پس جو کوئی شیطان کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے تو یقیناً اس نے ایک ایسے مضبوط کڑے کو پکڑ لیا جس کا ٹوٹنا ممکن نہیں۔اور