اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 130
اصحاب بدر جلد 2 130 حضرت ابو بکر صدیق میں اللہ کی عبادت کی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ تم پر ایمان لائے۔اور وہ رسول اللہ صلی علیم کے دوست اور خاندان والے ہیں اور آپ صلی علیہم کے بعد لوگوں میں سے اس منصب کے سب سے زیادہ حق دار ہیں۔اس معاملہ میں سوائے ظالم کے اور کوئی ان سے تنازعہ نہیں کرے گا۔اے انصار کے گروہ ! اور تم وہ ہو جن کی دین میں فضیلت اور اسلام میں سبقت لے جانے کے متعلق ا ا ا اوراس رسول ایم مردگار کیوجہ سےاللہ تم سے ہو انکار نہیں کیا جاسکتا۔اللہ کے دین اور اس کے رسول میلی لیے کم کے مدد گار بننے کی وجہ سے اللہ تم سے راضی ہو گیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ سلم کی ہجرت بھی تمہاری طرف ہی رکھی۔آپ کی اکثر ازواج اور اصحاب تمہارے یہاں رہتے ہیں۔مہاجرین اولین کے بعد ہمارے نزدیک تمہارے مرتبہ کا کوئی بھی نہیں۔امیر ہم میں ہوں گے اور تم وزیر۔ہر اہم معاملے میں تم سے مشورہ لیا جائے گا اور تمہارے بغیر اہم معاملات کے متعلق فیصلہ نہیں کریں گے۔حضرت ابو بکر نے سقیفہ بنو سَاعِدہ میں جو تقریر کی تھی سیرت حلبیہ میں اس کا ذکر اس طرح ملتا ہے 349 آپ نے فرمایا:۔اما بعد ! جہاں تک خلافت کا معاملہ ہے تو عرب کے لوگ اس کو سوائے قریش کے کسی دوسرے قبیلے کے لیے قبول نہیں کریں گے۔قریش کے لوگ اپنے حسب و نسب کے اعتبار سے اور اپنے وطن کے اعتبار سے جو مکہ ہے سب سے افضل اور اعلیٰ ہیں۔ہم نسب میں تمام عربوں سے جڑے ہوئے ہیں کیونکہ کوئی بھی قبیلہ ایسا نہیں جو کسی نہ کسی طرح قریش سے رشتہ قرابت نہ رکھتا ہو۔ہم مہاجرین وہ لوگ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ہم ہی آنحضرت صلی للی نیم کی برادری اور خاندان کے لوگ اور آپ کے رحمی رشتہ دار ہیں۔ہم اہل نبوت ہیں اور خلافت کے حق دار ہیں۔350 انہی واقعات کا ذکر کرتے ہوئے امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں حضرت ابو بکر کیا کر دار بیان کیا ہے اور یہ بیان کرنے کے بعد کہ حضرت ابو بکر نے آنحضرت صلی علیہم کی وفات پر آکر مسلمانوں میں تقریر کی اور آپ کی وفات کا اعلان کیا۔پھر بیان ہوا ہے راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد ( تقریر کرنے کے بعد اور وفات کا اعلان کرنے کے بعد) حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما تیزی کے ساتھ سقیفہ بنو ساعدہ کی طرف روانہ ہوئے یہاں تک کہ ان کے پاس پہنچے تو حضرت ابو بکر نے گفتگو شروع کی اور آپ نے قرآن کریم میں انصار کی بابت جو کچھ نازل ہوا اس میں سے کچھ نہ چھوڑا اور نبی کریم صلی علی نیم نے انصار کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ فرمایا تھا وہ سب بیان کیا۔پھر حضرت ابو بکر نے فرمایا۔تم لوگوں کو علم ہے کہ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا تھا کہ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا۔پھر حضرت سعد کو مخاطب کر کے حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا کہ اے سعد! تجھے علم ہے کہ تو بیٹھا ہوا تھا جب رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ خلافت کے حق دار قریش ہوں گے۔لوگوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ قریش کے نیک افراد کے تابع ہوں گے اور جو فاجر ہوں گے وہ