اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 110
اصحاب بدر جلد 2 110 حضرت ابو بکر صدیق 292 الله سة نے ابوسفیان اور حکیم بن حزام کو مَةُ الظُّهْرَ ان کے مقام پر پالیا۔ابن عقبہ بیان کرتے ہیں کہ جب ابو سفیان اور حکیم بن حزام واپس جارہے تھے تو حضرت عباس نے رسول اللہ صلی الم کی خدمت میں عرض کی کہ یارسول اللہ ! مجھے ابوسفیان کے اسلام کے بارے میں خدشہ ہے۔یہ ذکر تفصیلی پہلے بھی ہو چکا ہے کہ کس طرح ابوسفیان نے آنحضرت صل للہ علم کی اطاعت قبول کی تھی اور اسلام کی برتری کا اقرار کیا تھا۔بہر حال حضرت عباس نے کہا کہ اسے واپس بلا لیں یہاں تک کہ وہ اسلام کو سمجھ لے اور آپ صلی ایم کے ساتھ اللہ کے لشکروں کو دیکھ لے۔ایک دوسری روایت میں ابنِ ابی شیبہ روایت کرتے ہیں کہ جب ابو سفیان واپس جانے لگا تو حضرت ابو بکر نے رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ! اگر آپ ابوسفیان کے بارے میں حکم دیں تو اس کو راستہ میں روک لیا جائے۔ایک دوسری روایت میں ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ جب ابوسفیان واپس جارہا تھا تو رسول اللہ صلی مریم نے حضرت عباس سے فرمایا: اس یعنی ابو سفیان کو وادی کی گھاٹی میں روک لو۔چنانچہ حضرت عباس نے ابوسفیان کو جالیا اور روک لیا۔اس پر ابوسفیان نے کہا اے بنی ہاشم ! کیا تم دھوکا دیتے ہو ؟ حضرت عباس نے فرمایا: اہل نبوت دھوکا نہیں دیتے۔ایک اور روایت کے مطابق آپ نے کہا کہ ہم ہر گز دھوکا دینے والے نہیں البتہ تو صبح تک انتظار کر یہاں تک کہ تو اللہ کے لشکر کو دیکھے اور اس کو دیکھے جو اللہ نے مشرکوں کے لیے تیار کیا ہے۔چنانچہ حضرت عباس نے ابوسفیان کو اس گھائی میں روکے رکھا یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔293 الله مکہ میں فاتحانہ داخلہ جب اسلامی لشکر ابوسفیان کے سامنے سے گزر رہا تھا تو اس کا ذکر کرتے ہوئے سُبُلُ الْهُدی والرشاد میں لکھا ہے کہ ابو سفیان کے سامنے رسول اللہ صلی الم کا سبز پوش دستہ نمودار ہوا جس میں مہاجرین اور انصار تھے اور اس میں جھنڈے اور پرچم تھے۔انصار کے ہر قبیلے کے پاس ایک پرچم اور جھنڈا تھا اور وہ لوہے سے ڈھکے ہوئے تھے یعنی زرہ وغیرہ جنگی لباس میں ملبوس تھے۔ان کی صرف آنکھیں دکھائی دیتی تھیں۔ان میں گاہے بگاہے حضرت عمر کی اونچی آواز بلند ہوتی تھی۔وہ کہتے تھے آہستہ چلو تا کہ تمہارا پہلا حصہ آخری حصہ کے ساتھ مل جائے۔کہا جاتا ہے کہ اس دستہ میں ایک ہزار زرہ پوش تھے۔رسول اللہ صلی ا یکم نے اپنا جھنڈا حضرت سعد بن عبادہ کو عطا فرمایا اور وہ لشکر کے آگے آگے تھے۔جب حضرت سعد ابو سفیان کے پاس پہنچے تو انہوں نے ابوسفیان کو پکار کر کہا آج کا دن خونریزی کا دن ہے۔آج کے دن حرمت والی چیزوں کی حرمت حلال کر دی جائے گی۔آج کے دن قریش ذلیل ہو جائیں گے۔اس پر ابوسفیان نے حضرت عباس سے کہا۔اے عباس! آج میری حفاظت کا ذمہ تم پر ہے۔اس کے بعد دیگر قبائل وہاں سے گزرے اور اس کے بعد رسول اللہ صلی ملی یکم جلوہ افروز ہوئے اور آپ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار تھے اور آپ صلی ا م ، حضرت ابو بکر اور حضرت اُسید بن حضیر کے درمیان ان دونوں سے باتیں کرتے ہوئے تشریف لا رہے تھے۔حضرت عباس نے ابوسفیان سے رض