اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 82
اصحاب بدر جلد 2 82 حضرت ابو بکر صدیق نے ان کے جوش کو دیکھ کر ان کی بات مان لی اور فیصلہ فرمایا کہ ہم کھلے میدان میں نکل کر کفار کا مقابلہ کریں گے اور پھر جمعہ کی نماز کے بعد آپ نے مسلمانوں میں عام تحریک فرمائی کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ کی غرض سے اس غزوہ میں شامل ہو کر ثواب حاصل کریں۔اس کے بعد آپ اندرونِ خانہ تشریف لے گئے جہاں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی مدد سے آپ نے عمامہ باندھا اور لباس پہنا اور پھر ہتھیار لگا کر اللہ کا نام لیتے ہوئے باہر تشریف لے آئے لیکن اتنے عرصہ میں یہ جو نوجوان تھے ان کو بعض صحابہ کے کہنے پر اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ انہیں رسول خدا صلی علیکم کی رائے کے مقابلہ میں اپنی رائے پر اصرار نہیں کرنا چاہیے تھا۔جب یہ احساس ان کو ہوا تو اکثر ان میں سے پشیمانی کی طرف مائل تھے۔جب ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللی علم کو ہتھیار لگائے اور دوہری زرہ اور خود وغیرہ پہنے ہوئے تشریف لاتے دیکھا تو ان کی ندامت اور بھی زیادہ ہو گئی اور انہوں نے قریبا یک زبان ہو کر عرض کیا کہ یارسول اللہ ! ہم سے غلطی ہو گئی کہ ہم نے آپ کی رائے کے مقابلہ میں اپنی رائے پر اصرار کیا۔آپ جس طرح مناسب خیال فرماتے ہیں اسی طرح کارروائی فرمائیں۔ان شاء اللہ اسی میں برکت ہو گی۔آپ صلی ا یکم نے فرمایا۔خدا کے نبی کی شان سے یہ بعید ہے کہ وہ ہتھیار لگا کر پھر اسے اتار دے قبل اس کے کہ خدا کوئی فیصلہ کرے۔پس اب اللہ کا نام لے کر چلو اور اگر تم نے صبر سے کام لیا تو یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت تمہارے ساتھ ہو گی۔کون ہے جو اس تلوار کا حق ادا کرے 228 غزوہ احد میں رسول اللہ صلی علیم نے اپنی تلوار ہاتھ میں لے کر فرمایا کہ کون ہے جو اس کا حق ادا کرے؟ اس موقع پر جن اصحاب نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ تلوار ان کو عنایت کی جائے ان میں حضرت ابو بکر بھی شامل تھے۔229 سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس کا ذکر یوں فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی علی یم نے اپنی تلوار ہاتھ میں لے کر فرمایا کون ہے جو اسے لے کر اس کا حق ادا کرے۔بہت سے صحابہ نے اس فخر کی خواہش میں اپنے ہاتھ پھیلائے۔جن میں حضرت عمرؓ اور زبیر بلکہ روایات کی رو سے حضرت ابو بکرو حضرت علی بھی شامل تھے۔مگر آپ نے اپنا ہاتھ روکے رکھا اور یہی فرماتے گئے۔کوئی ہے جو اس کا حق ادا کرے؟ آخر ابو دجانہ انصاری نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور عرض کیا۔یارسول اللہ ! مجھے عنایت فرمائیے۔آپ نے یہ تلوار انہیں دے دی۔230 غزوہ احد میں جب کفار نے پلٹ کر حملہ کیا اور مسلمانوں کو ہزیمت اٹھانی پڑی تو اس وقت رسول اللہ صلی ایم کے متعلق بھی یہ خبر مشہور ہوئی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔ابن اسحاق کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی علیم کی شہادت کے اعلان اور کچھ لوگوں کے منتشر ہو جانے کے بعد سب سے پہلے رسول اللہ صلی للی کم پر حضرت کعب بن مالک کی نگاہ پڑی۔ان کا بیان ہے کہ میں نے خود کے درمیان میں