اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 81 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 81

محاب بدر جلد 2 81 حضرت ابو بکر صدیق اور اس کے بخار کو یہاں سے لے جا کر مخفہ کی طرف منتقل کر دے۔مُخفّہ مکہ سے مدینہ کی جانب بیاسی میل کے فاصلہ پر ایک جگہ ہے۔226 غزوة احد غزوہ احد کے بارے میں روایات ہیں کہ یہ غزوہ شوال تین ہجری بمطابق 625ء * میں مسلمانوں اور قریش مکہ کے درمیان ہوا۔تین ہجری کے آخر پر قریش مکہ اور ان کے حلیف قبیلوں پر مشتمل لشکر کے مدینہ پر چڑھائی کی اطلاع ملی۔نبی کریم صلی ا ہم نے مسلمانوں کو جمع کر کے قریش کے حملہ کے بارے میں آگاہ کر کے ان سے مشورہ مانگا که آیا مدینہ میں ہی رہ کر ان کا مقابلہ کیا جائے یا باہر نکلا جائے۔227 اس بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یوں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی ا ہم نے مسلمانوں کو جمع کر کے ان سے قریش کے اس حملہ کے متعلق مشورہ مانگا کہ آیا مدینہ میں ہی ٹھہر اجائے یا باہر نکل کر مقابلہ کیا جاوے۔مشورہ سے قبل آنحضرت صلی الم نے قریش کے حملے اور ان کے خونی ارادوں کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ آج رات میں نے خواب میں ایک گائے دیکھی ہے اور نیز میں نے دیکھا کہ میری تلوار کا سر ٹوٹ گیا ہے۔اور پھر میں نے دیکھا کہ وہ گائے ذبح کی جارہی ہے اور میں نے دیکھا کہ میں نے اپنا ہاتھ ایک مضبوط اور محفوظ زرہ کے اندر ڈالا ہے اور ایک روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ ایک مینڈھا ہے جس کی پیٹھ پر میں سوار ہوں۔صحابہ نے دریافت کیا یارسول اللہ ! آپ نے اس خواب کی کیا تعبیر فرمائی ہے؟ آپ صلی الی تم نے فرمایا۔گائے کے ذبح ہونے سے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرے صحابہ میں سے بعض کا شہید ہونا مراد ہے اور میری تلوار کے کنارے کے ٹوٹنے سے میرے عزیزوں میں سے کسی کی شہادت کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔یا شاید خود مجھے اس مہم میں کوئی تکلیف پہنچے اور زرہ کے اندر ہاتھ ڈالنے سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس حملہ کے مقابلہ کے لیے ہمارا مدینہ کے اندر ٹھہر نا زیادہ مناسب ہے اور مینڈھے پر سوار ہونے والے خواب کی آپ نے یہ تاویل فرمائی کہ اس سے م الله سة کفار کے لشکر کا سردار یعنی علمبر دار مراد ہے جو ان شاء اللہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے مارا جائے گا۔اس کے بعد آپ نے صحابہ سے مشورہ طلب فرمایا کہ موجودہ صورتحال میں کیا کرنا چاہیے ؟ بعض اکابر صحابہ نے حالات کے اونچ نیچ کو سوچ کر اور شاید کسی قدر آنحضرت صلی اللہ ظلم کے خواب سے متاثر ہو کر یہ رائے دی کہ مدینہ میں ہی ٹھہر کر مقابلہ کرنا مناسب ہے۔آنحضرت صلی للی الم نے بھی اسی رائے کو پسند فرمایا اور کہا کہ بہتر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہم مدینہ کے اندر رہ کر اس کا مقابلہ کریں لیکن اکثر صحابہ نے خصوصاً نوجوانوں نے ، جو بدر کی جنگ میں شامل نہیں ہوئے تھے اور اپنی شہادت سے خدمت دین کا موقع حاصل کرنے کے لیے بے تاب تھے ، بڑے اصرار کے ساتھ عرض کیا کہ شہر سے باہر نکل کر کھلے میدان میں مقابلہ کرنا چاہیے۔ان لوگوں نے اس قدر اصرار کے ساتھ اپنی رائے پیش کی کہ آنحضرت صلی الیکم سن 624ء لکھا ہوا ہے جو سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔مرتب