اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 65
محاب بدر جلد 2 65 حضرت ابو بکر صدیق خیمہ تھا۔اُخر معبد کا نام عاتکہ بنت خالد تھا۔ان کا تعلق خزاعہ کی شاخ بنو کعب سے تھا۔یہ حضرت حبيش بن خالد کی ہمشیرہ تھیں جنہیں صحابی ہونے اور روایت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔اُمّ معبد کے خاوند کا نام ابو معبد تھا۔کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بھی رسول اللہ صلی علیم سے روایت کی ہے۔انہوں نے رسول اللہ صلی علیکم کی زندگی میں وفات پائی۔ابو معبد کا نام معلوم نہیں۔ام معبد کا خیمہ قدید مقام پر تھا۔قدید مکہ کے قریب ایک قصبہ کا نام ہے جو رابغ سے چند میل کے فاصلے پر جنوب میں واقع تھا۔یہیں پر مشہور بت منا نصب تھا۔اہل مدینہ اس کی پرستش کیا کرتے تھے۔176 أمر معبد ایک بہادر اور مضبوط خاتون تھیں۔وہ اپنے خیمے کے صحن میں بیٹھی رہتیں اور وہاں سے گزرنے والوں کو کھلاتی پلا تھیں۔آپ اور آپ کے ساتھیوں نے اس سے گوشت اور کھجوروں کے متعلق پوچھا تا کہ یہ اس سے خرید سکیں لیکن اس کے پاس ان میں سے کوئی چیز نہ تھی۔اس وقت اُمّد معبد کی قوم محتاج اور قحط زدہ تھی۔اُمّ معبد نے کہا اگر ہمارے پاس کچھ ہوتا تو ہم تم لوگوں سے اسے دور نہ رکھتے۔رسول اللہ صلی علیم کو خیمے کے ایک کونے میں بکری نظر آئی تو آپ نے پوچھا اے ام معبد ! یہ بکری کیسی ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ یہ ایک ایسی بکری ہے کہ جسے کمزوری نے ریوڑ سے پیچھے رکھا ہوا ہے۔یعنی اس میں اتنی طاقت بھی نہیں ہے کہ ریوڑ کے ساتھ باہر چرنے جا سکے۔آپ صلی الیکم نے فرمایا: کیا اس میں دودھ ہے ؟ اس نے کہا: یہ اس سے کہیں زیادہ کمزور ہے۔یہ تو ممکن ہی نہیں کہ اس میں دودھ ہو۔آپ صلی الی تم نے پوچھا کیا تم مجھے اجازت دیتی ہو کہ میں اس کا دودھ دوہ لوں؟ اس نے کہا کہ اگر آپ کو اس میں دودھ دکھائی دے رہا ہے تو ضرور دوہ لیں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔اس پر رسول اللہ صلی علیم نے وہ بکری منگوائی اور اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا اور اللہ عزوجل کا نام لیا اور ام معبد کے لیے اس کی بکری میں برکت کی دعا کی۔بکری آپ کے سامنے آرام سے کھڑی ہو گئی اور اس نے خوب دودھ اتارا اور جگالی شروع کر دی۔پھر آپ نے ان سے ایک برتن منگوایا جو ایک جماعت کو سیر کر سکتا تھا۔اس میں اتنادودھ دوہا کہ جھاگ اس کے اوپر تک آگئی۔پھر ام معبد کو پلایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئیں۔پھر آپ نے اپنے ساتھیوں کو پلایا یہاں تک کہ وہ بھی سیر ہو گئے۔ان سب کے آخر میں آپ نے خود نوش کیا اور فرمایا: قوم کو پلانے والا آخر میں پیتا ہے۔پھر کچھ وقفہ کے بعد آپ نے اس بر تن میں دوبارہ دودھ دوہا یہاں تک کہ وہ بھر گیا اور اسے اُمّ معبد کے پاس چھوڑ دیا۔پھر آپ نے وہ بکری خریدی اور سفر کے لیے نکل پڑے۔177 لکھا ہے کہ ایک طرف نبی اکرم صلی علیہم اور آپ کے جاں نثار رفیق سفر حضرت ابو بکر خدائی تائید و نصرت کے ساتھ گویا محافظ فرشتوں کے جلو میں عازم سفر تھے اور دوسری طرف اہل مکہ نے گویا ابھی تک ہار نہیں مانی تھی۔وہ بھی مسلسل آپ کے تعاقب میں تھے۔چنانچہ قریش کی طرف سے تعاقب کرنے والی ایک پارٹی