اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 63 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 63

ب بدر جلد 2 63 حضرت ابو بکر صدیق کہتا ہے۔اس سر گذشت کی وجہ سے جو میرے ساتھ گذری تھی میں نے یہ سمجھا کہ اس شخص کا ستارہ اقبال پر ہے اور یہ کہ بالآخر آنحضرت صلی اللہ کم غالب رہیں گے۔چنانچہ میں نے صلح کے رنگ میں ان سے کہا کہ آپ کی قوم نے آپ کو قتل کرنے یا پکڑ لانے کے لیے اس اس قدر انعام مقرر کر رکھا ہے اور لوگ آپ کے متعلق یہ یہ ارادہ رکھتے ہیں اور میں بھی اسی ارادے سے آیا تھا مگر اب میں واپس جاتا ہوں۔“ اور پھر سراقہ کی جو باقی تفصیل بیان ہوئی ہے۔173❝ اس کے بعد سراقہ کے کنگن پہننے کی پیشگوئی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اس طرح لکھتے ہیں کہ ”جب سراقہ واپس لوٹنے لگا تو آپ نے اسے فرمایا۔سراقہ ! اس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تیرے ہاتھوں میں کسری کے کنگن ہوں گے ؟ سراقہ نے حیران ہو کر پوچھا: کسری بن ہرمز شہنشاہِ ایران؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔سراقہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔کہاں عرب کے صحرا کا ایک بدوی اور کہاں کسری شہنشاہِ ایران کے کنگن۔مگر قدرتِ حق کا تماشا دیکھو کہ جب حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایران فتح ہوا اور کسریٰ کا خزانہ غنیمت میں مسلمانوں کے ہاتھ آیا تو کسری کے کنگن بھی غنیمت کے مال کے ساتھ مدینہ میں آئے۔حضرت عمرؓ نے سراقہ کو بلایا جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہو چکا تھا اور اپنے سامنے اس کے ہاتھوں میں کسری کے کنگن جو بیش قیمت جو اہرات سے لدے ہوئے تھے پہنائے۔حضرت مصلح موعود اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے یوں فرماتے ہیں کہ ”انہوں نے “ یعنی مکہ والوں نے اعلان کر دیا کہ جو کوئی محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) یا ابو بکر کو زندہ یا مردہ واپس لے آئے گا اس کو سو اونٹنی انعام دی جائے گی اور اس اعلان کی خبر مکہ کے ارد گرد کے قبائل کو بھجوا دی گئی۔چنانچہ اس وقت ” سراقہ بن مالک ایک بدوی رئیس اس انعام کے لالچ میں آپ کے پیچھے روانہ ہوا۔تلاش کرتے کرتے اس نے مدینہ کی سڑک پر آپ کو جالیا۔جب اس نے دو اونٹنیوں اور ان کے سواروں کو دیکھا اور سمجھ لیا کہ محمد رسول اللہ صلی الی یم اور ان کے ساتھی ہیں تو اس نے اپنا گھوڑا ان کے پیچھے دوڑا دیا۔“ پھر آپ نے وہ سارا واقعہ بیان کیا ہے جو سراقہ کے گھوڑے کا ٹھو کر کھا کر گرنے کا اور فال نکالنے کا تھا۔پھر آپ کہتے ہیں۔سراقہ کہتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ کم و وقار کے ساتھ اپنی اونٹنی پر سوار چلے جا رہے تھے۔انہوں نے مڑ کر مجھے نہیں دیکھا لیکن ابو بکر ( اس ڈر سے کہ رسول کریم صلی الم کو کوئی گزند نہ پہنچے بار بار منہ پھیر کر مجھے دیکھتے تھے۔“ اس تعاقب کے واقعہ کی تفصیل بیان کرنے کے بعد حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ۔۔جب سراقہ لوٹنے لگا تو معا اللہ تعالیٰ نے سراقہ کے آئندہ حالات آپ پر غیب سے ظاہر فرما دیئے اور ان کے مطابق آپ نے اسے فرمایا۔سراقہ ! اس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تیرے ہاتھوں میں کسری کے کی کنگن ہوں گے۔سراقہ نے حیران ہو کر پوچھا کسری بن ہرمز شہنشاہ ایران کے کنگن ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! آپ کی یہ پیشگوئی کوئی سولہ سترہ سال کے بعد جا کر لفظ بلفظ پوری ہوئی۔سراقہ مسلمان ہو کر مدینہ آگیا۔