اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 51
ناب بدر جلد 2 51 حضرت ابو بکر صدیق غار ثور اور اللہ تعالیٰ کی معجزانہ حفاظت 146 اس نے ایک طرف تو ان سراغ رسانوں کے آنے سے قبل ہی وہاں اپنی معجزانہ قدرت سے ایک درخت اُگا دیا، مکڑے کو بھیج کر غار کے منہ پر ایک جالہ بن دیا اور کبوتروں کے ایک جوڑے کو بھیجا کہ وہاں اپنا گھونسلا بنا کر انڈے بھی دے دیں۔یہ روایت میں۔بہر حال اس کے بعد خدا تعالیٰ کس طرح آنحضرت صلی علیم کی تسلی فرماتا ہے یا یہ ساری باتیں دیکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے حضرت ابو بکر کو کس طرح تسلی دی۔147 اس واقعہ کے حوالے سے جو غار ثور میں دشمن کے پہنچ جانے کا ہے قرآن کریم میں یہ آیت جو ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر تم اس رسول کی مدد نہ بھی کرو تو اللہ پہلے بھی اس کی مدد کر چکا ہے جب اسے ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا وطن سے نکال دیا تھا اس حال میں کہ وہ دو میں سے ایک تھا جب وہ دونوں غار میں تھے اور وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ ہم نہ کر یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔پس اللہ نے اس پر اپنی سکینت نازل کی اور اس کی ایسے لشکروں سے مدد کی جن کو تم نے کبھی نہیں دیکھا تھا اور اس نے ان لوگوں کی بات نیچی کر دکھائی جنہوں نے کفر کیا تھا اور بات اللہ ہی کی غالب ہوتی ہے اور اللہ کامل غلبہ والا اور بہت حکمت والا ہے۔قرآن شریف میں غارِ ثور کے واقعہ کے حوالے سے یہ ذکر ہے۔کفار مکہ غار کے دہانے پر کھڑے باتیں کر رہے تھے کہ حضرت ابو بکرا نہیں سن کر گھبر اگئے کہ اگر نبی اکرم صلی علیم کو یہاں پکڑ لیا گیا تو کیا بنے گا۔سارا اسلام تو گویا اسی ذات بابرکات سے وجو د باجو د تھا۔نبی اکرم صلی ا م کے متعلق اس گھبر اہٹ کو جب آپ صلی الیم نے دیکھا کہ حضرت ابو بکر کو گھبراہٹ پید اہورہی ہے تو آنحضرت صلی ا ولم نے فرمایا: لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنا غم نہ کرو ابو بکر ! یقیناً ہمارا خدا ہمارے ساتھ ہے۔18 148 آنحضور صلی اللی کم کا پیچھا کرتے ہوئے جب وہ لوگ غار ثور کے پہاڑ کے پاس پہنچے تو سراغ رساں نے کہا: مجھے پتہ نہیں چل رہا کہ اس کے بعد ان دونوں نے کہاں اپنے قدم رکھے ہیں اور جب وہ غار کے قریب ہو گئے تو سراغ رساں نے کہا کہ اللہ کی قسم! جس کی تلاش میں تم لوگ آئے ہو وہ یہاں سے آگے نہیں گیا۔149 غار کے دہانے پر اس سراغ رساں نے جب یہ ساری بات کی اور کسی نے چاہا بھی کہ غار کے اندر جھانک کر دیکھا جائے تو اُمیہ بن خلف نے تلخ اور بے پروائی کے سے انداز میں کہا کہ یہ جالا ( اور درخت) تو میں محمد کی پیدائش سے پہلے یہاں دیکھ رہا ہوں (صلی اللہ علیہ وسلم)۔تم لوگوں کا دماغ چل گیا ہے۔وہ یہاں کہاں ہو سکتا ہے اور یہاں سے چلو کسی اور جگہ اس کی تلاش کریں اور یہ کہتے ہوئے سب لوگ وہاں سے واپس چلے آئے۔150