اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 50 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 50

اصحاب بدر جلد 2 50 لگایا اور اس کے بعد پاؤں ایسا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔42 حضرت ابو بکر صدیق کفار مکہ کی حسرتناک نامرادی گھر گھر تلاش اور کھوجیوں کا غار ثور تک پہنچ جانا دوسری طرف قریش مکہ جو کہ نبی اکرم صلی یکم کے گھر کا محاصرہ کیے ہوئے تھے ان کو دیکھ کر ایک شخص نے گزرتے ہوئے پوچھا کہ یہاں کیوں کھڑے ہو ؟ انہوں نے بتایا تو وہ آدمی کہنے لگا کہ میں نے تو محمد کو گلیوں سے گزرتے ہوئے دیکھا ہے تو انہوں نے اس شخص کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ وہ تو اندر اپنے بستر پر ہیں اور ہم مسلسل ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔پھر رات گئے اپنے پہلے سے طے کیسے منصوبے کے مطابق جب وہ ایک دم سے اندر گئے اور چادر کھینچ کر سوئے ہوئے کو دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ تو حضرت علی نہیں۔ان سے پوچھا کہ محمد کہاں ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔اس پر مشرکین 144 نے آپ کو ڈانٹ ڈپٹ کی اور زدو کوب کیا اور کچھ دیر محبوس رکھنے کے بعد آپ کو چھوڑ دیا۔بہر حال اس روایت کے مطابق وہ لوگ حضرت علی کو ڈانٹ ڈپٹ کر کے مار پیٹ کر وہاں سے غیض و غضب کی حالت میں واپس چلے آئے اور مکہ کی گلی گلی اور گھر گھر آپ کو تلاش کرنے لگے۔143 اسی دوران وہ لوگ حضرت ابو بکر کے گھر بھی آئے۔حضرت اسماء کا سامنا ہوا۔ابو جہل آگے بڑھا اور پوچھا کہ تمہارا باپ ابو بکر کہاں ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتی کہ وہ کہاں ہے ؟ اس پر اس بد باطن ابو جہل نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اس زور سے حضرت اسماء کے منہ پر طمانچہ مارا کہ ان کے کان کی بالی ٹوٹ کر گر گئی اور غصہ کی حالت میں وہ سب لوگ واپس چلے گئے۔مکہ کی چھان بین سے ناکام فارغ ہوئے تو ماہر کھوجی مکہ کے چاروں طرف روانہ کر دیے۔رئیس مکہ اُمیہ بن خلف وہ خود ایک ماہر کھوجی کو لے کر اپنے ساتھیوں سمیت ایک طرف نکلا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کھوجی، سراغ رساں واقعی ماہر تھا۔جتنی بھی اس کی مہارت کی داد دی جائے وہ کم ہے کیونکہ یہ واحد کھوجی تھا کہ جو نبی اکرم صلی للی ایم کے قدموں کے ایک ایک نشان کو کھوج کر عین غار ثور کے دہانے تک جا پہنچا اور کہنے لگا کہ محمد کے قدموں کے نشان بس یہاں تک ہیں۔اس کے آگے نہیں جاتے۔علامہ بلاذری نے اس کھوجی کا نام علقمہ بن گر ز بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر اس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔غارِ ثور کے منہ پر یہ لوگ کھڑے باتیں کر رہے تھے اور دو ہجرت کرنے والے عین اسی غار میں نہ صرف اندر چھپے ہوئے تھے ان لوگوں کی باتیں سن رہے تھے بلکہ حضرت ابو بکر بیان کرتے ہیں کہ میں ان کے پاؤں بھی دیکھ رہا تھا اور خدا کی قسم ! اگر ان میں سے کوئی ایک بھی اندر جھانک کر دیکھ لیتا تو ہم پکڑے جاتے لیکن خطرے اور مصیبت کی اس گھڑی میں یہ دوا کیلے نہیں تھے بلکہ تیسرا ان کے ساتھ وہ خدا تھا کہ جس کے قبضہ قدرت میں زمین و آسمان ہیں اور جو قادر مطلق تھا۔5 الله 145