اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 41
حاب بدر جلد 2 41 حضرت ابو بکر صدیق کہ وہ لوگ قریش سے جنگ کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔چنانچہ وہ آپ کے لیے دارالندوہ میں جمع ہوئے۔یہ قصی بن کلاب کا وہ گھر تھا کہ قریش کا جو بھی فیصلہ ہوتا تھا وہ اسی میں ہو تا تھا۔جب بھی انہیں آپ کے بارے میں خدشہ محسوس ہوتا تو وہ لوگ یہاں مشورہ کے لیے آیا کرتے تھے۔ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس نے بیان کیا کہ جب وہ لوگ اس کے لیے جمع ہوئے اور انہوں نے عہد و پیمان کیا کہ وہ دارالندوہ میں داخل ہوں گے تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللی کم کے بارے میں مشاورت کریں۔جس روز کا انہوں نے عہد و پیمان کیا تھا اس دن وہ لوگ گئے اور وہ دن يَوْمُ الزّخمہ کہلا تا ہے۔ان کے سامنے ایک بوڑھے اور عمر رسیدہ شخص کی ہیئت میں ابلیس ظاہر ہوا۔مطلب یہ ہے کہ ایسا انسان تھا جو ابلیس صفت انسان تھا۔بہر حال جس نے چادر اوڑھی ہوئی تھی اور دارالندوہ کے دروازے پر کھڑا ہوا۔لوگ اسے جانتے نہیں تھے۔جب ان لوگوں نے اسے دروازے پر کھڑا دیکھا تو انہوں نے کہا یہ بوڑھا شخص کون ہے؟ اس شخص نے کہا کہ میں اہل مسجد میں سے ایک بوڑھا شخص ہوں اور اس نے کہا کہ میں نے وہ بات سن لی ہے جس کا تم نے عہد و پیمان کیا تھا۔پس تمہارے پاس میں اس لیے آیا ہوں کہ تا کہ سن لوں کہ تم لوگ کیا کہتے ہو۔امید ہے کہ تمہیں اس سے کوئی نہ کوئی رائے یا بھلائی مل جائے گی۔اس نے اپنے بارے میں کہا۔ان لوگوں نے کہا ٹھیک ہے اندر آجاؤ۔وہ ان لوگوں کے ساتھ اندر داخل ہو گیا۔وہاں قریش کے سرداران کی ایک بڑی جماعت شریک تھی جن کے نمایاں ناموں میں عُتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ، ابو سفیان بن حرب ، طعیمہ بن عَدِی اور بھی بعض لوگ تھے۔ابو جہل بن ہشام، حجاج کے دو بیٹے اور بہت سارے لوگ تھے۔اس کے علاوہ کچھ سردار بھی تھے جن کا شمار قریش سے نہیں ہو تا۔جب سب لوگ جمع ہو گئے تو تجاویز دینے کا وقت آیا تو ایک شخص نے تجویز پیش کی کہ اسے یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو لوہے کی بیٹیوں میں جکڑ کر قید کر دو اور باہر سے دروازہ بند کرو۔پھر اس پر اسی موت کے آنے کا انتظار کرو جو اس سے پہلے اس جیسے دو شعراء مثلاً زھیر اور نابغہ پر آچکی ہے۔اور دیگر شعراء پر جو پہلے گزر چکے ہیں۔یعنی انجام کا انتظار کرو جس طرح اس سے پہلے دو شاعروں زہیر اور نابغہ وغیرہ کا ہو چکا ہے یعنی موت ان کا خاتمہ کر دے تو جیسے ان کو موت آئی تھی آپ کے لیے بھی یہی Plan کیا گیا۔اس پر اس بوڑھے مجدی نے کہا نہیں۔اللہ کی قسم! میرے نزدیک یہ رائے تمہارے لیے مناسب نہیں ہے۔واللہ ! اگر تم لوگوں نے اسے قید کر دیا تو اس کی خبر بند دروازے سے ر نکل کر اس کے ساتھیوں تک ضرور پہنچ جائے گی۔پھر کچھ بعید نہیں کہ وہ لوگ تم پر دھاوا بول کر اس نص کو تمہارے قبضہ سے نکال لے جائیں۔پھر اس کی مدد سے اپنی تعداد بڑھا کر تمہیں مغلوب کر لیں۔لہذا کوئی اور تجویز سوچو۔اس پر ایک شخص نے یہ تجویز دی کہ ہم اس شخص کو اپنے درمیان سے نکال دیں اور اپنے شہر سے جلا وطن کر دیں پھر ہمیں اس سے کوئی واسطہ نہیں کہ وہ کہاں جاتا ہے اور کہاں رہتا ہے۔جب وہ ہم سے غائب ہو جائے گا اور ہم اس سے فارغ ہو جائیں گے تو ہمارا معاملہ ٹھیک ہو جائے گا اور ہم پہلے جیسی حالت میں رہنے لگیں گے۔اس پر بوڑھے مجدی نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم! یہ رائے بھی ٹھیک نہیں۔تم دیکھتے نہیں کہ اس شخص کی بات کتنی عمدہ اور بول کتنے بیٹھے ہیں اور جو کچھ لاتا ہے اس