اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 40 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 40

اصحاب بدر جلد 2 40 حضرت ابو بکر صدیق ہجرت کی اجازت مل جائے گی ؟ گویا ہجرت کی وجہ سے نبی اکرم صلی ا ہم سے جدائی کا غم جاتارہا۔حضرت ابو بکر یہ نوید مسرت سن کر واپس لوٹ کر آئے اور ہجرت کا ارادہ ملتوی کر دیا البتہ انہوں نے حکیمانہ انداز میں دو اونٹنیاں خریدیں جنہیں خاص طور پر کھلا کھلا کر ہجرت کے انجانے سفر کے لیے تیار کرنے لگے۔112 ان باتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی علی نام اور آپ کے ساتھیوں نے ہجرت کی تیاری شروع کی۔ایک کے بعد ایک خاندان مکہ سے غائب ہونا شروع ہوا۔اب وہ لوگ بھی جو خدا تعالیٰ کی بادشاہت کا انتظار کر رہے تھے دلیر ہو گئے۔بعض دفعہ ایک ہی رات میں مکہ کی ایک پوری گلی کے مکانوں کو تالے لگ جاتے تھے اور صبح کے وقت جب شہر کے لوگ گلی کو خاموش پاتے تو دریافت کرنے پر انہیں معلوم ہو تا تھا کہ اس گلی کے تمام رہنے والے مدینہ کو ہجرت کر گئے ہیں اور اسلام کے اس گہرے اثر کو دیکھ کر جو اندر ہی اندر مکہ کے لوگوں میں پھیل رہا تھا وہ حیران رہ جاتے تھے۔آخر مکہ مسلمانوں سے خالی ہو گیا صرف چند غلام، خو د رسول اللہ صلی الیم، حضرت ابو بکر اور حضرت علی مکہ میں رہ گئے۔113 پھر آپ بیان فرماتے ہیں کہ کفار مکہ کو دوسرے لوگوں کی نسبت رسول کریم صلی ای کم سے فطرتاً زیادہ بغض و عداوت تھی کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ آپ ہی کی تعلیم کی وجہ سے لوگوں میں شرک کی مخالفت پھیلتی جاتی تھی۔وہ جانتے تھے کہ اگر وہ آپ کو قتل کر دیں تو باقی جماعت خود بخود پراگندہ ہو جائے گی۔اس لئے یہ نسبت دوسروں کے وہ آنحضرت مصلی یکم کو زیادہ دکھ دیتے اور چاہتے کہ کسی طرح آپ اپنے لئے بہ وہ ایم دکھ کہ دعاوی سے باز آجائیں لیکن باوجود ان مشکلات کے آپ نے صحابہ کو تو ہجرت کا حکم دے دیا مگر خودان دکھوں اور تکلیفوں کے باوجو د مکہ سے ہجرت نہ کی کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی اذان نہ ہوا تھا۔چنانچہ جب حضرت ابو بکرؓ نے پوچھا کہ میں ہجرت کر جاؤں تو آپ نے جواب دیا۔عَلَى رِسُلِكَ فَإِنِّي أَرْجُو آن يُؤْذَنَ لِی۔آپ ابھی ٹھہریں امید ہے کہ مجھے بھی اجازت مل جائے۔1146 کفار کا دارالندوہ میں جمع ہونا اور نبی اکرم صلی ا یکم کے قتل کا مشورہ دارالندوہ میں کفار نبی کریم صلی ال نیم کے خلاف خفیہ مشورہ کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے۔اس کے بارے میں لکھا ہے کہ رؤسائے مکہ اب اس بات پر سخت غصہ میں تھے اور پیچ و تاب کھا رہے تھے کہ مسلمان ان کے ہاتھ سے بیچ کر نکل گئے ہیں اس پر اب وہ دارالندوہ میں جمع ہوئے۔علامہ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب قریش نے دیکھا کہ نبی کریم صلی الیم کے ساتھ ایک گروہ اور کچھ اصحاب مل گئے ہیں جو نہ مکہ کے مسلمانوں میں سے ہیں اور نہ ہی ان کے علاقے کے ہیں۔نیز قریش نے دیکھا کہ صلى الم کے صحابہ ان لوگوں کی طرف ہجرت کر کے نکل رہے ہیں تو قریش نے جان لیا کہ وہ ایک امن کی جگہ پڑاؤ کر رہے ہیں اور انہیں ان لوگوں یعنی اہل مدینہ کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم ہو گیا ہے تو انہیں خدشہ ہوا کہ رسول کریم صلی ہی کم ہجرت کر کے ان کی طرف نہ چلے جائیں اور قریش نے جان لیا الله سة