اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 429 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 429

ناب بدر جلد 2 429 حضرت ابو بکر صدیق ہمیشہ دوسرے لوگوں کو ہی کمانڈر بنا کر بھیجا جاتا تھا۔اسی طرح دوسرے کاموں میں بھی آپ کو انچارج نہیں بنایا جاتا تھا۔باقی قرآن کریم کی تعلیم ہے یا قضا و غیرہ کا کام ہے یہ بھی آپ کے سپرد نہیں کیا گیا۔(حضرت ابو بکر کے سپرد نہیں کیا گیا) لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ جب ابو بکر کا وقت آئے گا تو جو کام ابو بکر کرلے گاوہ اس کا غیر نہیں کر سکے گا۔چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے اور مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہو گیا کہ کون خلیفہ ہو اس وقت حضرت ابو بکر کے ذہن میں بھی یہ بات نہ تھی کہ آپ خلیفہ ہوں گے۔آپ سمجھتے تھے کہ حضرت عمر و غیر ہ ہی اس کے اہل ہو سکتے ہیں۔انصار میں جو جوش پیدا ہوا اور انہوں نے چاہا کہ خلافت انہی میں سے ہو کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم نے اسلام کی خاطر قربانیاں کی ہیں اور اب خلافت کا حق انصار کا خیال تھا کہ ہمارا ہے اور ادھر مہاجرین کہتے تھے کہ خلیفہ ہم میں سے ہو۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ایک جھگڑا برپا ہو گیا۔انصار کہتے تھے کہ خلیفہ ہم میں سے ہو اور مہاجرین کہتے تھے کہ خلیفہ ہم میں سے ہو۔آخر انصار کی طرف سے جھگڑا اس بات پر ختم ہوا کہ ایک خلیفہ مہاجرین میں سے ہو اور ایک خلیفہ انصار میں سے ہو۔اس جھگڑے کو دُور کرنے کے لیے ایک میٹنگ بلائی گئی۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ اس وقت میں نے سمجھا کہ حضرت ابو بکر بے شک نیک اور بزرگ ہیں لیکن اس گتھی کو سلجھانا ان کا کام نہیں ہے۔یہ بہت مشکل کام ہے ان کے لیے ) اس گتھی کو اگر کوئی سلجھا سکتا ہے تو حضرت عمر نے کہا کہ وہ میں ہی ہوں۔یہاں طاقت کا کام ہے۔نرمی اور محبت کا کام نہیں۔(اور حضرت ابو بکر تو نرمی اور محبت دکھانے والے ہیں) چنانچہ آپؐ فرماتے ہیں میں نے سوچ سوچ کر ایسے دلائل نکالنے شروع کیے جن سے یہ ثابت ہو کہ خلیفہ قریش میں سے ہونا چاہیے اور یہ کہ ایک خلیفہ انصار میں سے ہو اور ایک مہاجرین میں سے یہ بالکل غلط ہے۔آپؐ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے دلائل سوچے اور پھر اس مجلس میں گیا جو اس جھگڑے کو نپٹانے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔حضرت ابو بکر بھی میرے ساتھ تھے۔میں نے چاہا کہ تقریر کروں اور دلائل سے جو میں سوچ کر گیا تھا لو گوں کو قائل کروں۔میں سمجھتا تھا کہ حضرت ابو بکر اس شوکت اور دبدبے کے مالک نہیں کہ اس مجلس میں بول سکیں لیکن میں کھڑا ہونے ہی لگا تھا ( حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں کھڑ ا ہونے ہی لگا تھا) کہ حضرت ابو بکر نے غصہ سے ہاتھ مار کے مجھ سے کہا بیٹھ جاؤ اور خود کھڑے ہو کر تقریر شروع کر دی۔حضرت عمر فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم! جتنی دلیلیں میں نے سوچی تھیں وہ سب کی سب حضرت ابو بکر نے بیان کر دیں اور پھر اور بھی کئی دلائل بیان کرتے چلے گئے اور بیان کرتے چلے گئے یہاں تک کہ انصار کے دل مطمئن ہو گئے اور انہوں نے خلافت مہاجرین کے اصول کو تسلیم کر لیا۔یہ وہی ابو بکر تھا جس کے متعلق حضرت عمر خود بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک دفعہ کسی جھگڑے پر بازار میں حضرت ابو بکر کے کپڑے پھاڑ دیے اور مارنے پر تیار ہو گئے تھے۔یہ وہی ابو بکر تھا