اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 425
حاب بدر جلد 2 425 حضرت ابو بکر صدیق حضرت علی نے ایک مرتبہ لوگوں سے پوچھا کہ اے لوگو! لوگوں میں سے سب سے زیادہ بہادر کون ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اے امیر المومنین! آپ ہیں۔حضرت علی نے فرمایا : جہاں تک میری بات ہے میرے ساتھ جس نے مبارزت کی میں نے اس سے انصاف کیا یعنی اسے مار گرایا مگر سب سے بہادر حضرت ابو بکر نہیں۔ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بدر کے دن خیمہ لگایا۔پھر ہم نے کہا کہ کون ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ؟ تا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک کوئی مشرک نہ پہنچ پائے تو اللہ کی قسم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کوئی نہ گیا مگر حضرت ابو بکر اپنی تلوار کو سونتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو گئے۔یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی مشرک نہیں پہنچے گا مگر پہلے وہ حضرت ابو بکڑ سے سب مقابلہ کرے گا۔پس وہ سب سے بہادر شخص ہیں۔اسی طرح جنگِ اُحد میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی افواہ پھیلی تو سہ سے پہلے حضرت ابو بکر ہجوم کو چیرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے۔کہا جاتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت صرف گیارہ صحابہ کرام موجود تھے جن میں حضرت ابو بکر، حضرت سعد اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اور حضرت ابو دجانہ کا نام بھی آتا ہے۔جنگ احد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پہرے میں گھاٹی پر موجود چند جاں نثاروں میں حضرت ابو بکر بھی ایک تھے۔جنگ خندق میں حضرت ابو بکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ تھے اور خندق کی کھدائی کے وقت آپ کپڑے میں مٹی اٹھا کر پھینکنے والوں میں شامل تھے۔صلح حدیبیہ کے موقع پر جان نچھاور کرنے کے لیے بیعت کرنے والوں میں تو آپ شامل تھے ہی لیکن جو معاہدہ لکھا گیا تو جس ایمانی جرآت اور استقلال اور فراست اور اطاعت و عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ حضرت ابو بکر نے پیش کیا حضرت عمرؓ اپنی بعد کی ساری زندگی اس کو نہیں بھولے۔غزوہ طائف میں بھی حضرت ابو بکر شامل تھے اور ان کے بیٹے عبد اللہ بن ابو بکر بھی شامل تھے۔حضرت ابو بکر کے یہ جوان بیٹے اس غزوہ میں شہید * ہو گئے تھے۔994 غزوہ تبوک میں ایک جھنڈ ا حضرت ابو بکر کو دیا گیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تیس ہزار کا لشکر لے کر غزوہ تبوک کے لیے نکلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف سپہ سالار مقرر فرمائے اور انہیں جھنڈے عطا فرمائے۔اس موقع پر سب سے بڑا جھنڈا حضرت ابو بکر کو عطا کیا گیا۔95 995 حضرت سلمہ بن اکوع بیان فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں سات غزوات میں شرکت کی اور جو جنگی مہمات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ فرمائیں ان میں سے نو طائف کی جنگ میں تیر لگنے سے زخمی ہوئے اور حضرت ابو بکر کی خلافت کے زمانہ میں اسی زخم کی وجہ سے وفات ہوئی (دیکھیں صفحہ 63 3 کتاب بذا)