اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 424 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 424

اصحاب بدر جلد 2 424 حضرت ابو بکر صدیق دانت نہیں ہیں اس لئے ابو بکر میرے منہ میں لقمہ چبا کر ڈالا کرتے تھے آج جو میرے منہ میں سخت لقمہ آیا تو میں نے خیال کیا کہ یہ لقمہ کھلانے والا ابو بکر نہیں ہے بلکہ کوئی اور شخص ہے اور ابو بکر تو ناغہ بھی کبھی نہ کیا کرتے تھے اب جو ناغہ ہوا تو یقیناً وہ دنیا میں موجود نہیں ہیں۔“ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ پس وہ کون سی شے ہے جو بادشاہت سے حضرت ابو بکر نے حاصل کی ؟“خلافت یا بادشاہت جو اُن کو ملی اس سے تو کچھ نہیں حاصل کیا۔کیا سر کاری مال کو اپنا قرار دیا انہوں نے ”اور حکومت کی جائدادوں کو اپنا مال قرار دیا؟ ہر گز نہیں۔جو اشیاء ان کے رشتہ داروں کو ملیں وہ ان کی ذاتی جائداد سے تھیں۔صرف ایک امتیاز جو ان کو تھا وہ تو خدمت تھی جو انہوں نے کی۔حضرت ابو بکڑ نے ایک بڑھیا کو ہمیشہ حلوہ کھلانا وطیرہ کر رکھا تھا 992❝ 991" حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ”یہ دو ٹکڑے شریعت کے ہیں حق اللہ اور حق العباد۔“ یہ دو چیزیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کا حق اور حق العباد۔فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھو کہ کس قدر خدمات میں عمر کو گزارا۔اور حضرت علی کی حالت کو دیکھو کہ اتنے پیوند لگائے کہ جگہ نہ رہی۔حضرت ابو بکر نے ایک بڑھیا کو ہمیشہ حلوہ کھلانا وطیرہ کر رکھا تھا۔غور کرو کہ یہ کس قدر التزام تھا۔جب آپ فوت ہو گئے “ یعنی حضرت ابو بکر فوت ہو گئے تو اس بڑھیا نے کہا کہ آج ابو بکر فوت ہو گیا۔اس کے پڑوسیوں نے کہا کہ کیا تجھ کو الہام ہو ا یا وحی ہوئی ؟ تو اس نے کہا نہیں آج حلوا لے کر نہیں آیا اس واسطے معلوم ہوا کہ فوت ہو گیا یعنی زندگی میں ممکن نہ تھا کہ کسی حالت میں بھی حلوا نہ پہنچے۔دیکھو! کس قدر خدمت تھی۔ایسا ہی سب کو چاہئے کہ خدمت خلق کرے۔“ آپ کا پردہ پوشی کا معیار کیا تھا، اس بارے میں روایت ہے۔حضرت ابو بکر فرماتے تھے کہ اگر میں چور کو پکڑتا تو میری سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی کہ خدا اس کے جرم پر پردہ ڈال دے۔بہادری اور شجاعت کے بارے میں لکھا ہے۔حضرت ابو بکر شجاعت اور بہادری کا مجسمہ تھے۔بڑے بڑے خطرے کو اسلام کی خاطر یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و عشق کی بدولت خاطر میں نہ لاتے تھے۔مکی زندگی میں جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے لیے کوئی خطرہ یا تکلیف کا موقع دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت و نصرت کے لیے دیوار بن کر سامنے کھڑے ہو جاتے۔شعب ابی طالب میں تین سال تک اسیری اور محصوری کا زمانہ آیا تو ثابت قدمی، استقلال کے ساتھ وہیں موجو د رہے۔پھر ہجرت کے دوران انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و معیت کا اعزاز ملا حالا نکہ جان کا خطرہ تھا۔جتنی بھی جنگیں ہوئیں حضرت ابو بکر نہ صرف یہ کہ اُن میں شامل ہوئے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے فرائض آپؐ سرانجام دیتے۔آپؐ کی اسی جرآت اور بہادری کو سامنے رکھتے ہوئے 993