اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 422
حاب بدر جلد 2 422 حضرت ابو بکر صدیق حضرت ابو بکر تین آدمیوں کو لے آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس کو لے گئے۔اور گھر میں حضرت ابو بکر اور تین اور شخص تھے۔حضرت عبد الرحمن " کہتے تھے کہ میں ، میرا باپ اور میری ماں۔راوی نے کہا ہے کہ میں نہیں جانتا کہ آیا عبدالرحمن نے یہ بھی کہا کہ میری بیوی یا میر ا خادم جو کہ ہمارے اور حضرت ابو بکر کے گھر میں مشترکہ تھا۔اور ایسا ہوا کہ حضرت ابو بکر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں شام کا کھانا کھایا پھر وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ عشاء کی نماز پڑھی پھر واپس آگئے۔مہمانوں کو گھر لے گئے تھے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہرے رہے اور وہیں کھانا کھا لیا اور پھر واپس آئے۔بیان کرتے ہیں کہ وہاں اتنی دیر ٹھہرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انہوں نے شام کا کھانا کھایا اور اتنی رات گزرنے کے بعد آئے جتنا کہ اللہ نے چاہا۔اُن کی بیوی نے ان سے کہا کس بات نے آپ کو اپنے مہمانوں سے یا کہا مہمان سے روکے رکھا؟ یعنی آپ نے دیر کیوں لگائی۔حضرت ابو بکڑ نے کہا: کیا تم نے انہیں کھانا نہیں کھلایا؟ وہ کہنے لگیں کہ انہوں نے آپ کے آنے تک کھانے سے انکار کر دیا تھا۔مہمانوں نے کہا ہم نہیں کھائیں گے جب تک حضرت ابو بکر نہیں آتے۔انہوں نے تو اُن کو کھانا پیش کر دیا تھا، ان کی اہلیہ کہنے لگیں میں نے تو کھانا پیش کر دیا تھا مگر مہمانوں نے اُن کی پیش نہ چلنے دی۔حضرت عبدالرحمن کہتے تھے کہ میں جا کر چھپ رہا۔میں اُن سے اس لیے چھپ گیا کہیں مجھے حضرت ابو بکر سے ڈانٹ نہ پڑے کہ کیوں مہمانوں کو کھانا نہیں کھلایا۔پھر حضرت ابو بکر نے کہا اے بیوقوف ! اور انہوں نے مجھے سخت سست کہا، عبدالرحمن ان کے بیٹے کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے مہمانوں سے کہا کہ کھانا کھائیں اور خود حضرت ابو بکر نے قسم کھالی کہ میں ہر گز نہیں کھاؤں گا۔حضرت عبد الرحمن کہتے تھے کہ اللہ کی قسم اہم جو بھی لقمہ لیتے اس کے نیچے سے اس سے زیادہ کھانا بڑھ جاتا۔اور انہوں نے اتنا کھایا کہ وہ سیر ہو گئے۔اور جتنا پہلے تھا اس سے بھی زیادہ ہو گیا۔مہمانوں کو کھانا کھلایا۔مہمان کھانا کھاتے جاتے تھے لیکن کہتے ہیں کہ وہ کھانا اتنا ہی رہتا تھا بلکہ بڑھ جاتا تھا۔اور سب نے پیٹ بھر کے کھایا۔حضرت ابو بکر نے جب یہ دیکھا کہ کھانا تو ویسے کا ویسا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ تھا تو انہوں نے اپنی بیوی سے کہا بنی فیر اس کی بہن! یہ کیا ہے ؟ ان کی بیوی بولیں کہ قسم میری آنکھوں کی ٹھنڈک کی ! یہ تو اب اُس سے تین گنا زیادہ ہے جتنا پہلے تھا۔یعنی اتنا بڑھ گیا ہے کھانا۔حضرت ابو بکر نے بھی اس سے کھایا اور کہنے لگے وہ تو صرف شیطان تھا یعنی اس کی تحریک پر میں نے نہ کھانے کی قسم کھائی تھی۔پہلے کہا تھا ناں، قسم ہے کہ میں نہیں کھاؤں گا لیکن جب دیکھا کھانے میں برکت پڑ رہی ہے تو آپ نے کہا وہ قسم میرے سے شیطان نے کہلوائی تھی لیکن یہ برکت والا کھانا ہے، اس سے میں بھی کھاؤں گا۔پھر اس میں سے ایک لقمہ حضرت ابو بکڑ نے کھایا۔اس کے بعد وہ کھانا اٹھا کر