اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 406
محاب بدر جلد 2 953 406 حضرت ابو بکر صدیق حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے خواب میں اپنے حجرے میں تین چاند گرتے ہوئے دیکھے تو میں نے اپنی خواب اپنے والد حضرت ابو بکر صدیق کے سامنے بیان کی۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین حضرت عائشہ کے حجرے میں عمل میں آئی تو حضرت ابو بکر نے آپؐ سے کہا یہ تمہارے چاندوں میں سے ایک ہے اور یہ ان میں سے بہترین ہے۔3 حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ کالی بکریوں کا ریوڑ میری پیروی کر رہا ہے اور ان کے پیچھے خاکستری رنگ کی بکریوں کا ریوڑ ہے۔اس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ عرب آپ کی پیروی کریں گے اور پھر عجم ان کی پیروی کریں گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے نے بھی یہی تعبیر کی ہے۔954 یہ تو خوابوں کا ذکر تھا۔اب یہ ذکر ہے کہ مردوں میں سب سے پہلے مسلمان کون تھا؟ تو اس بارے میں یہی ہے کہ حضرت ابو بکر کیا ہی کہا جاتا ہے۔حضرت عمار بن یاسر کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ابتدائی زمانے میں دیکھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف پانچ غلام اور دو عور تیں اور حضرت ابو بکر تھے۔955 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی تصنیف سیرت خاتم النبیین میں تفصیلی نوٹ لکھا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں اور انہوں نے یہ بحث کی ہے کہ سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کون ایمان لایا تھا؟ چنانچہ آپ لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے مشن کی تبلیغ شروع کی تو سب سے پہلے ایمان لانے والی حضرت خدیجہ تھیں جنہوں نے ایک لمحہ کے لیے بھی تردد نہیں کیا۔حضرت خدیجہ کے بعد مردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے کے متعلق مورخین میں اختلاف ہے۔بعض حضرت ابو بکر عبد اللہ بن ابی قحافہ کا نام لیتے ہیں۔بعض حضرت علی کا جن کی عمر اس وقت صرف دس سال کی تھی اور بعض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ کا۔مگر ہمارے نزدیک یہ جھگڑا فضول ہے۔حضرت علی اور زید بن حارثہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے آدمی تھے اور آپ کے بچوں کی طرح آپ کے ساتھ رہتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا تھا اور ان کا ایمان لانا۔( یعنی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا اس پر ان کو یقین تھا اور ایمان تھا اس لیے یہ کہنا کہ آپ ایمان لائے تو یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کیونکہ ان کی عمر چھوٹی تھی اور گھر کے فرد تھے) بلکہ ان کی طرف سے تو شاید کسی قولی اقرار کی بھی ضرورت نہ تھی۔پس ان کا نام بیچ میں لانے کی ضرورت نہیں اور جو باقی رہے ان سب میں سے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمہ طور پر مقدم اور سابق بالا یمان تھے۔رض