اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 382
حاب بدر جلد 2 382 حضرت ابو بکر صدیق ابو بکر جو کپڑے کی تجارت کرتے تھے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد حسب معمول کندھے پر کپڑوں کے تھان رکھ کر بازار کی طرف روانہ ہوئے۔راستے میں حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہ سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے کہا اے خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کہاں تشریف لے جا رہے ہیں۔حضرت ابو بکر نے فرمایا بازار۔انہوں نے کہا آپ مسلمانوں کے حاکم ہیں چلیے ہم آپ کے لیے کچھ وظیفہ مقرر کر دیں۔آپ واپس چلیں، وظیفہ مقرر کر دیں گے۔تجارت کی کوئی ضرورت نہیں۔888 علامہ ابن سعد نے وظیفہ کی تفصیل یہ بیان کی ہے کہ ان کو دو چادر میں ملتی تھیں۔جب وہ پرانی ہو جاتی تھیں تو انہیں واپس کر کے دوسری لیتے تھے۔سفر کے موقع پر سواری اور خلافت سے پہلے جو خرچ تھا اسی کے موافق اپنے اور اپنے متعلقین کے لیے خرچ لیتے تھے۔889 حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ”حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمام عالم اسلامی کے بادشاہ تھے مگر ان کو کیا ملتا تھا۔پبلک کے روپیہ کے وہ محافظ تو تھے مگر خود اس روپیہ پر کوئی تصرف نہیں رکھتے تھے۔بے شک حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بڑے تاجر تھے مگر چونکہ ان کو کثرت سے یہ عادت تھی کہ جو نہی روپیہ آیا خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیا اس لیے ایسا اتفاق ہوا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ خلیفہ ہوئے تو اس وقت آپ کے پاس نقد روپیہ نہیں تھا۔خلافت کے دوسرے ہی دن آپؐ نے کپڑوں کی گٹھڑی اٹھائی اور اسے بیچنے کے لئے چل پڑے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رستہ میں ملے تو پوچھا کیا کرنے لگے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ آخر میں نے کچھ کھانا تو ہوا۔اگر میں کپڑے نہیں بیچوں گا تو کھاؤں گا کہاں سے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا یہ تو نہیں ہو سکتا اگر آپ کپڑے بیچتے رہے تو خلافت کا کام کون کرے گا؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ اگر میں یہ کام نہیں کروں گا تو پھر گزارہ کس طرح ہو گا؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ آپ بیت المال سے وظیفہ لے لیں۔حضرت ابو بکڑ نے جواب دیا کہ میں یہ تو برداشت نہیں کر سکتا، بیت المال پر میرا کیا حق ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا جب قرآن کریم نے اجازت دی ہے کہ دینی کام کرنے والوں پر بھی بیت المال کا روپیہ صرف ہو سکتا ہے تو آپ کیوں نہیں لے سکتے۔چنانچہ اس کے بعد بیت المال سے ان کا وظیفہ مقرر ہو گیا مگر اس وقت کے لحاظ سے وہ وظیفہ صرف اتنا تھا جس سے روٹی کپڑے کی ضرورت پوری ہو سکے۔“ ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر کے ہاتھ سے اگر لگام چھوٹ کر گر جاتی تو آپ اپنی اونٹنی کو بٹھاتے اور وہ لگام اٹھاتے۔ان سے کہا گیا کہ آپ نے ہمیں کیوں حکم نہیں دیا تا ہم آپ کو پکڑا دیتے۔حضرت ابو بکر فرماتے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات کا حکم دیا تھا کہ میں 89066