اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 370 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 370

اصحاب بدر جلد 2 370 حضرت ابو بکر صدیق صرف جن سے ملنا ہے جن سے بات کرنی ہے ان سے بات کریں۔وہ عوام میں نہ گھس جائیں۔جب تم خود ان سے بات کرو تو اپنے بھید کو ظاہر نہ کرنا۔خود بھی سفیروں سے بڑی احتیاط سے بات کرنا۔پھر مشورہ کے بارے میں بتایا کہ جب تم کسی سے مشورہ لینا تو بات سچ کہنا، صحیح مشورہ ملے گا۔ساری بات بتا کے پھر مشورہ لینا۔مشیر سے اپنی خبر مت چھپاناور نہ تمہاری وجہ سے تمہیں نقصان پہنچے گا۔سارے دن کی معلومات حاصل کرنے کے بارے میں کہ کس طرح معلومات حاصل کی جائیں۔کس طرح عہدیدار کو ، لیڈر کو، کمانڈر کو انفارمیشن معلوم ہو تو فرمایا کہ رات کے وقت اپنے دوستوں سے باتیں کرو۔شام کے وقت بیٹھو ان میں سے لوگ چنوان سے باتیں کرو تمہیں خبریں مل جائیں گی۔اکثر بغیر اطلاع دیے ہی اچانک ان کی چوکیوں کا معائنہ کرنا۔نگرانی بھی ضروری ہے۔جسے اپنی حفاظت گاہ سے غافل پاؤ اس کی اچھی طرح تادیب کرنا۔پھر فرمایا کہ سزا دینے میں جلدی نہ کرنا اور نہ بالکل نظر انداز کرنا۔دونوں چیزیں ضروری ہیں، نہ سزادینے میں، فیصلہ کرنے میں جلد بازی کرنی ہے۔نہ یہ کہ بالکل غافل ہو جاؤ کچھ کہو ہی نہ۔اپنی فوج سے غافل نہ رہنا۔ان کی جاسوسی کر کے ان کو رسوا نہ کرنا۔ہر وقت جستجو، اپنے لوگوں کی جاسوسی نہ کرتے رہنا کیونکہ اس طرح ان کی رسوائی ہوتی ہے۔ان کے راز کی باتیں لوگوں سے نہ بیان کرنا۔جو راز تمہیں پتہ لگے کسی اور سے نہ بیان کرنا۔بریکار قسم کے لوگوں کے ساتھ مت بیٹھنا۔سچے اور وفادار لوگوں کے ساتھ بیٹھا کرنا۔بزدل نہ بننا ور نہ لوگ بھی بزدل ہو جائیں گے۔مالِ غنیمت میں خیانت سے بچنا یہ محتاجی سے قریب کرتی ہے اور فتح و نصرت کو روکتی ہے۔1859 یہ بہت سی باتیں ہیں جو میں نے نئی بیان کیں۔ان میں سے بعض باتیں جیسا کہ میں نے پہلے کہا علاوہ فوجی افسروں کے ہمارے عہدے داروں کے لیے بھی ضروری ہیں جس کا انہیں خیال رکھنا چاہیے تبھی کام میں برکت پڑے گی۔یہ خلاصہ میں دوبارہ جیسا کہ پہلے کہا ہے اس لیے بیان کر رہا ہوں تاکہ عہدیداروں کو یادر ہے۔اسلامی حکومت کی مختلف ریاستوں میں تقسیم کے بارے میں لکھا ہے کہ حضرت ابو بکرؓ کے عہد خلافت میں بلادِ اسلامیہ کو مختلف ریاستوں میں تقسیم کیا گیا۔ان ریاستوں میں آپ نے امراء اور گورنر مقرر کیے۔مدینہ ان کا دارالخلافہ تھا۔یہاں حضرت ابو بکر بحیثیت خلیفہ تھے 860 عمال مقرر کرنے کے طریق کے بارے میں لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر شما طریق کار یہ تھا کہ آپ نبی کریم صلی یہ یکم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے کسی قوم پر گورنر مقرر کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھتے کہ اگر اس قوم کے افراد میں نیک و صالح افراد ہوتے تو انہی میں سے گورنر مقرر فرماتے۔طائف اور بعض دیگر قبائل پر انہی میں سے گورنر مقرر فرمایا اور جب آپ کسی شخص کو بحیثیت