اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 354
اصحاب بدر جلد 2 354 حضرت ابو بکر صدیق ان کے ایسے آدمی پکڑے ہوئے ہیں جن کے بدلے میں وہ ہمارے قیدی آسانی سے رہا کر دیں گے۔حضرت خالد نے دو ہزار سپاہیوں کو اپنے ساتھ لیا اور باقی تمام افواج کو حضرت ابو عبیدہ کے حوالے کر دیا تا کہ عورتوں کی حفاظت ہو جائے اور خود قیدی خواتین کی تلاش میں نکل گئے۔آپ جلدی جلدی چل کر اس جگہ پہنچے جہاں پر دشمن مسلمان عورتوں کو قید کر کے لے گئے تھے۔آپ نے دیکھا کہ غبار اڑ رہا ہے۔آپ کو تعجب ہوا کہ یہاں لڑائی کیوں ہو رہی ہے۔پتا کرنے پر معلوم ہوا کہ بولص کا بھائی بنظرس عورتوں کو گرفتار کر کے نہر کے پاس بھائی کے انتظار میں رک گیا تھا اور اب وہ عورتوں کو آپس میں بانٹنے لگے تھے۔بطرس نے حضرت خولہ کے بارے میں کہا کہ یہ میری ہے۔انہوں نے عورتوں کو ایک خیمہ میں قید کر دیا اور خود آرام کرنے لگے اور انہیں بولص کا انتظار بھی تھا۔ان عورتوں میں سے اکثر بہادر اور تجربہ کار شہسوار عورتیں بھی تھیں۔وہ ہر قسم کی جنگ جانتی تھیں۔یہ آپس میں جمع ہوئیں اور حضرت خولہ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اے قبیلہ حمیر کی بیٹیو! اور اے قبیلہ تبع کی یاد گارو! کیا تم اس پر راضی ہو کہ رومی کفار تم کو لونڈیاں بنائیں ؟ کہاں گئی تمہاری شجاعت اور کیا ہو ئی تمہاری وہ غیرت جبس کا ذکر عرب مجلسوں میں ہوا کرتا تھا؟ افسوس! میں تمہیں غیرت سے علیحدہ اور شجاعت و حمیت سے خالی پا رہی ہوں۔اس آنے والی مصیبت سے تو تمہاری موت افضل ہے۔یہ سن کر ایک صحابیہ نے کہا اے خولہ آتو نے جو کچھ بیان کیا ہے بے شک درست ہے لیکن یہ بتاؤ کہ ہم قید میں ہیں۔ہمارے ہاتھ میں نیزہ تلوار نہیں ہے۔ہم کیا کر سکتی ہیں ! نہ گھوڑا ہے نہ اسلحہ ہے کیونکہ اچانک ہم کو قید کر لیا گیا ہے۔حضرت خولہ نے فرمایا کہ ہوش کرو۔خیموں کے ستون تو موجود ہیں۔ہمیں چاہیے کہ انہیں اٹھا کر ان بد بختوں پر حملہ کریں۔آگے مدد اللہ فرمائے گا۔یا ہم غالب آجائیں گے ورنہ شہید تو ہو جائیں گی۔اس پر ہر خاتون نے خیمہ کی ایک ایک لکڑی اٹھائی۔حضرت خولہ ایک لکڑی کندھے پر رکھ کر آگے ہوئیں۔حضرت خولہ نے اپنے ماتحت خواتین سے فرمایا کہ زنجیر کی کڑیوں کی طرح ایک ساتھ ہو جاؤ۔متفرق نہ ہوناور نہ سب قتل ہو جاؤ گی۔اس کے بعد حضرت خولہ نے آگے بڑھ کر ایک رومی کا فر کو مار کر قتل کیا۔رومی لوگ ان عورتوں کی جرات و بہادری دیکھ کر حیران ہو گئے۔بطرس نے کہا بد بختو! یہ کیا کر رہی ہیں۔ایک صحابیہ نے جواب دیا کہ آج ہم نے ارادہ کر لیا ہے کہ ان لکڑیوں سے تمہارے دماغ درست کر دیں اور تمہیں قتل لیا کر کے اپنے اسلاف کی عزتوں کی حفاظت کریں۔بُطرس نے کہا کہ ان کو زندہ پکڑ لو اور خولہ کو زندہ پکڑنے کا خاص خیال رکھو۔چاروں طرف سے تین ہزار رومی حلقہ باندھ کر کھڑے تھے مگر کوئی شخص عورتوں تک نہیں آسکتا تھا۔اگر وہ آگے بڑھتا تو یہ عورتیں ان کے گھوڑوں اور پھر ان کو مار دیتی تھیں۔اس طرح تمیں سواروں کو ان عورتوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔بطرس یہ دیکھ کر آگ بگولہ ہو گیا۔گھوڑے سے نیچے اترا۔اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہو کر تلواروں