اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 342 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 342

باب بدر جلد 2 342 حضرت ابو بکر صدیق 786 مسلمانوں کی آمد کے متعلق سنا تو وہ اجنادین کی طرف ہٹ گئے۔حضرت عمرو بن عاص نے جب اسلامی لشکروں کے متعلق سنا تو وہ وہاں سے چل پڑے یہاں تک کہ اسلامی لشکروں سے جاملے اور پھر سب اجنادین کے مقام پر جمع ہو گئے اور رومیوں کے سامنے صف آرا ہو گئے۔دوسری روایت یہ بھی ہے کہ اس کے مطابق اجنادین جانے سے قبل حضرت خالد بصری کی بجائے دمشق کا محاصرہ کیسے ہوئے تھے اور حضرت ابو عبیدہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔اس محاصرے کے دوران ہر قل نے اہل دمشق کی مدد کے لیے ایک لشکر بھی بھیجا تھا جس کے ساتھ مسلمانوں کی جھڑپ ہوئی تھی جو بعد میں دمشق کی فتح کے ذیل میں بیان ہو جائے گی۔بہر حال دمشق کے محاصرے کے دوران حضرت خالد اور حضرت ابوعبیدہ کو معلوم ہوا کہ حمص کے حاکم نے ایک لشکر اکٹھا کیا ہے تاکہ حضرت شرحبیل بن حسنہ کا راستہ کاٹے جو کہ اس وقت بصری میں تھے اور یہ کہ رومیوں کا ایک بڑا لشکر اجنادین کے مقام پر اترا ہے۔787 اس خبر نے حضرت خالد اور حضرت ابو عبیدہ کو پریشان کر دیا کیونکہ آپ اس وقت اہل دمشق سے جنگ میں مصروف تھے۔اس پر حضرت خالد اور حضرت ابو عبید گانے باہم مشورہ کیا۔حضرت ابو عبیدہ نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ ہم یہاں سے چلیں اور حضرت شرحبیل نیتک پہنچ جائیں اس سے قبل کہ دشمن ان تک پہنچ جائے۔حضرت خالد نے کہا کہ اگر ہم حضرت شرحبیل کی طرف گئے تو اجنادین میں موجو د رومی لشکر ہمارا پیچھا کرے گا اس لیے میری رائے یہ ہے کہ ہم اسی بڑے لشکر کا قصد کریں جو کہ اجنادین میں موجود ہے اور حضرت شرحبیل کی طرف پیغام بھیج دیں اور انہیں دشمن کی ان کی طرف ہونے والی حرکت سے آگاہ کر دیں اور انہیں کہیں کہ وہ اجنادین میں ہمارے ساتھ آملیں۔اسی طرح ہم حضرت یزید بن ابو سفیان اور حضرت عمرو کو بھی کہلا بھیجیں کہ وہ ہم سے اجنادین میں آکر مل جائیں پھر ہم اپنے دشمن سے مقابلہ کریں۔اس پر حضرت ابو عبیدہ نے کہا کہ یہ رائے بہت عمدہ ہے اللہ اس میں برکت رکھے۔اس پر عمل کریں۔ایک روایت کے مطابق حضرت ابو عبیدہ نے حضرت خالد کو یہ مشورہ دیا تھا کہ ہمارالشکر نے شام میں متفرق مقامات پر منتشر ہے۔لہذا ان تمام کو خط لکھا جائے کہ وہ ہمیں اجنادین کے مقام پر آکر ملیں چنانچہ جب حضرت خالد نے دمشق سے اجنادین کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو تمام امرا کو خط لکھ کر اجنادین میں جمع ہونے کا ارشاد فرمایا۔حضرت خالد اور حضرت ابو عبیدہ بھی لوگوں کو لے کر دمشق کا محاصرہ چھوڑ کر اجنادین والوں کی طرف سرعت کے ساتھ نکل پڑے۔حضرت ابوعبیدہ لشکر کے پچھلے حصہ میں تھے۔اہل دمشق نے تعاقب کر کے حضرت ابو عبیدہ کو جالیا اور ان کا گھیر اؤ کر لیا۔آپ دو سو آدمیوں کے ساتھ تھے۔دراصل یہ عورتوں بچوں اور مال و اسباب پر مشتمل قافلہ تھا۔ایک روایت کے مطابق ان کی نگرانی اور حفاظت کے لیے ایک ہزار سوار بھی موجود تھے۔جبکہ اہل دمشق بہت بڑی تعداد میں