اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 335
ناب بدر جلد 2 335 حضرت ابو بکر صدیق انطاکیہ پہنچا اور فلسطین کی طرح ان علاقوں میں بھی اس نے جو شیلی تقریریں کر کے وہاں کے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے پر آمادہ کیا۔خود انطاکیہ کو ہیڈ کوارٹر بنا کر مسلمانوں سے مقابلے کی تیاریاں کرنے لگا۔3 773 روم کی شام میں دو افواج تھیں۔ایک فلسطین میں اور دوسری انطاکیہ میں اور ان دونوں افواج نے درج ذیل مقامات پر اپنے مراکز بنارکھے تھے۔نمبر ایک انطاکیہ : یہ رومی سلطنت کے دور میں شام کا دارالسلطنت تھا۔دوسر اقنسرین: یہ شام کی سرحد ہے جو شمال مغرب میں فارس کے مقابل پڑتی ہے۔تیسر ا حمص : یہ شام کی سرحد ہے جو شمال مشرق میں فارس کے مقابل پڑتی ہے۔چو تھا۔عمان: بلقاء کا صدر مقام یہاں مضبوط اور محفوظ قلعہ تھا۔پانچواں اجنادین: یہ فلسطین کے جنوب میں روم کا عسکری مرکز تھا جو بلاد عرب کی مشرقی اور مغربی سرحدوں اور حدود مصر سے ملتا تھا۔چھٹا قیساریہ: یہ فلسطین کے شمال میں حیفا سے تیرہ کلو میٹر پر واقع ہے اور اس کے کھنڈر ابھی تک باقی ہیں۔رومی ہائی کمان کا مرکز انطاکیہ یا حمص تھا۔774 ایک روایت میں یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ جب ہر قل کو اسلامی لشکروں کی آمد کی خبر ملی تو اس نے پہلے اپنی قوم کو جنگ سے باز رہنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ میری رائے ہے کہ تم مسلمانوں سے صلح کر لو۔خدا کی قسم ! اگر ان سے شام کی نصف پیداوار پر صلح کرو گے اور تمہارے پاس نصف پیداوار اور روم کا علاقہ رہا تو وہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ شام کے تمام علاقے اور روم کے نصف علاقے پر قابض ہو جائیں مگر اہل روم اٹھ کر چلے گئے اور انہوں نے اس کی بات نہیں مانی۔اس لیے وہ انہیں اکٹھا کر کے حمص لے گیا اور وہاں اس نے فوجیوں اور لشکروں کو تیار کرناشروع کیا۔حمص کے بعد ہر قل انطاکیہ گیا۔چونکہ اس کے پاس فوج بہت زیادہ تھی اس لیے اس نے یہ ارادہ کیا کہ مسلمانوں کے ہر لشکر کے مقابلے میں الگ الگ لشکر بھیجے تا کہ مسلمانوں کے لشکر کے ہر حصہ کو اپنے مد مقابل کے ذریعہ کمزور کر دے۔چنانچہ اس نے اپنے بھائی تذارق کو نوے ہزار فوج دے کر حضرت عمرو کے مقابلے میں بھیجا اور جرجہ بن تور کو حضرت یزید بن ابو سفیان کے مقابلے کے لیے بھیجا۔اسی طرح قیقار بن نَسْطوس کو ساٹھ ہزار فوج دے کر حضرت ابو عبیدہ کی طرف روانہ کیا اور حضرت شر خبیل بن حسنہ کے مقابلے کے لیے ڈر اقض کو بھیجا۔775 حضرت ابوعبیدہ بن جراح جب جابیہ کے قریب تھے تو ان کے پاس ایک آدمی خبر لے کر آیا کہ ہر قل انطاکیہ میں ہے اور اس نے تمہارے مقابلے کے لیے اتنا بڑا لشکر تیار کیا ہے کہ اس سے قبل ایسا لشکر اس کے آباؤ اجداد میں سے بھی کسی نے تم سے پہلی قوموں کے مقابلے کے لیے تیار نہیں کیا تھا۔اس پر حضرت ابو عبیدہ نے حضرت ابو بکر کو خط لکھا کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ شاہ روم ہر قل شام کی ایک بستی جسے انطاکیہ کہتے ہیں وہاں آکر قیام پذیر ہوا ہے اور اپنی سلطنت کے لوگوں کی طرف آدمی