اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 19
اصحاب بدر جلد 2 19 حضرت ابو بکر صدیق قائل تھے “ یعنی حضرت ابو بکر کی نیکی اور تقویٰ کے قائل تھے انہیں ”سمجھانا شروع کیا اور سات آدمی اور رسول کریم علی ای ام پر ایمان لائے۔یہ سب نوجوان تھے جن کی عمر 12 سال سے لے کر 25 سال تک 6566 صرف یہ دلیل تھی جس کی وجہ سے حضرت ابو بکر نے رسول کریم ملایا ہم کو انا پھر ایک جگہ حضرت مصلح موعودؓ نے اس واقعہ کو یوں بیان فرمایا ہے کہ ”حضرت ابو بکر نے رسول کریم ملی لی کمر کو ایک ہی دلیل سے مانا ہے اور پھر کبھی ان کے دل میں آپ کے متعلق ایک لمحہ کے لئے بھی شبہ پیدا نہیں ہوا۔“ دلیل وہی چل رہی ہے۔واقعات بعض دفعہ ذرا مختلف ہو جاتے ہیں اور وہ دلیل یہ تھی کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بچپن سے دیکھا اور وہ جانتے تھے کہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔کبھی شرارت نہیں کی۔کبھی گندی اور ناپاک بات آپ کے منہ سے نہیں نکلی۔بس یہی وہ جانتے تھے۔اس سے زیادہ نہ وہ کسی شریعت کے جاننے والے تھے کہ اس کے بتائے ہوئے معیار سے رسول کریم صل اللہ تم کو سچا سمجھ لیا۔نہ کسی قانون کے پیر و تھے۔انہیں کچھ معلوم نہ تھا کہ خدا کار سول کیا ہوتا ہے اور اس کی صداقت کے کیا دلائل ہوتے ہیں۔وہ صرف یہ جانتے تھے کہ رسول کریم صلی ا ہم نے جھوٹ کبھی نہیں بولا۔وہ ایک سفر پر گئے ہوئے تھے جب واپس آئے تو راستہ میں ہی کسی نے انہیں کہا تمہارا دوست ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کہتا ہے کہ میں خدا کار سول ہوں۔انہوں نے کہا کہ کیا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتا ہے ؟ اس نے کہا ہاں۔انہوں نے کہا پھر وہ جھوٹ نہیں بولتا۔جو کچھ کہتا ہے سچ کہتا ہے۔کیونکہ جب اس نے کبھی بندوں پر جھوٹ نہیں بولا تو خدا پر کیوں جھوٹ بولنے لگا۔جب اس نے انسانوں سے کبھی ذرا بد دیانتی نہیں کی تو اب ان سے اتنی بڑی بد دیانتی کس طرح کرنے لگا کہ ان کی روحوں کو تباہ کر دے۔صرف یہ دلیل تھی جس کی وجہ سے حضرت ابو بکڑ نے رسول کریم ملی کم و مانا اور اسی کو خدا تعالیٰ نے بھی لیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے لوگوں کو کہہ دو فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ۔(یونس :17) میں ایک عرصہ تم میں رہا اس کو دیکھو اس میں میں نے تم سے کبھی غداری نہیں کی پھر اب میں خدا سے کیوں غداری کرنے لگا۔یہی وہ دلیل تھی جو حضرت ابو بکرؓ نے لی اور کہہ دیا کہ اگر وہ کہتا ہے کہ خدا کا رسول ہوں تو سچا ہے اور میں مانتا ہوں۔اس کے بعد نہ کبھی ان کے دل میں کوئی شبہ پیدا ہوا اور نہ ان کے پائے ثبات میں کبھی لغزش آئی۔ان پر بڑے بڑے ابتلاء آئے۔انہیں جائیدادیں اور وطن چھوڑنا اور اپنے عزیزوں کو قتل کرنا پڑا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت میں کبھی شبہ نہ ہوا۔6 6666 ابو بکری فطرت کیا ہے؟ ایک دفعہ بیعت کرنے والوں کو ہدایات دے رہے تھے ، ان کو سمجھارہے تھے تو اس ضمن میں یہ بات آپ نے حضرت ابو بکر کے آنحضرت صلی علی زنم کو ماننے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمائی۔