اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 305 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 305

اصحاب بدر جلد 2 305 حضرت ابو بکر صدیق قصر ابن بقیلہ کے محاصرہ کے لیے مقرر ہوئے اس میں عمر و بن عبد المسیح پناہ گزین تھا۔حضرت خالد نے اپنے امرا کے نام یہ فرمان جاری کیا کہ وہ پہلے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں۔اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو ان کے اسلام کو مان لیں اور اگر وہ انکار کریں تو انہیں ایک دن کی مہلت دیں اور انہیں حکم دیا کہ دشمن کو موقع نہ دیں بلکہ ان سے قتال کریں اور مسلمانوں کو دشمن سے قتال کرنے سے نہ رو لیں۔دشمن نے مقابلہ آرائی کو اختیار کیا اور مسلمانوں پر پتھر برسانے شروع کر دیے۔مسلمانوں نے ان پر تیروں کی بارش کی اور ان پر ٹوٹ پڑے اور محلات اور قلعوں کو فتح کر لیا۔وہاں جو پادری موجود تھے ان پادریوں نے آواز لگائی کہ اے محل والو! ہمیں تمہارے سوا کوئی قتل نہ کرنے پائے۔ان کو جوش دلانے کی کوشش کی۔محل والوں نے آواز دی۔اے عربو! ہم نے تمہاری تین شرطوں میں سے ایک کو قبول کر لیا ہے لہذا تم رُک جاؤ۔جب انہوں نے وہاں دیکھا کہ عرب مسلمان غالب آرہے ہیں تو انہوں نے شرطوں پر قلعے کھولنے کا خیال ظاہر کیا۔ان محلات کے سردار باہر نکلے۔پھر حضرت خالد نے ان محل والوں سے الگ الگ ملاقات کی اور ان کے اس فعل پر ملامت کی۔726 اور ملامت کرتے ہوئے فرمایا کہ تم پر افسوس ! تم نے اپنے آپ کو کیا سمجھ کر ہم سے مقابلہ کیا! اگر تم عرب ہو تو کس وجہ سے تم اپنے ہی ہم قوم لوگوں کا مقابلہ کرنے پر آمادہ ہو گئے اور اگر تم بھی ہو تو کیا تمہارا خیال ہے کہ تم ایک ایسی قوم کے مقابلے میں جیت جاؤ گے جو عدل و انصاف میں نظیر نہیں رکھتی ! سر داروں نے جزیہ دینے کا اقرار کر لیا۔خالد کو امید تھی کہ ہم قوم ہونے کی وجہ سے یہ عراقی عرب ضرور اسلام قبول کر لیں گے لیکن انہیں بے حد تعجب ہوا جب انہوں نے بدستور عیسائی رہنے پر اصرار کیا۔اہل حیرہ کے ساتھ معاہدہ بہر حال حضرت خالد نے اہل حیرہ اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والا معاہدہ لکھا جو یہ تھا۔بسم اللہ الرحمن الرحیم۔یہ وہ معاہدہ ہے جو خالد بن ولید نے عدی بن عدی، عمر و بن عدی، عمرو بن عبد المسیح، ایاس بن قبیصہ اور جیری بن اشکال سے کیا ہے۔یہ اہل حیرہ کے سردار ہیں اور حیرہ والے اس معاہدے پر راضی ہیں اور انہوں نے اس کا انہیں حکم دیا ان سے ایک لاکھ نوے ہزار درہم پر معاہدہ کیا ہے جو ہر سال ان سے ان کی حفاظت کے عوض وصول کیا جائے گا۔یعنی مقامی لوگوں کی حفاظت کے لیے یہ جزیہ لگایا کہ جو دنیاوی مال و متاع ان کے قبضہ میں ہے خواہ وہ راہب ہوں یا پادری لیکن جن کے پاس کچھ نہیں، دنیا سے الگ ہیں، اس کو چھوڑ چکے ہیں، یہ معاہدہ ان کی حفاظت کی شرط پر ہے۔اور اگر وہ ان کی حفاظت کا انتظام نہ کر سکیں تو ان پر کوئی جزیہ نہیں یہاں تک کہ وہ یعنی حاکم ان کی حفاظت کا انتظام کرے۔اگر انہوں نے اپنے کسی فعل یا قول کے ذریعہ سے غداری کی تو یہ معاہدہ فسخ ہو جائے گا۔یہ معاہدہ ربیع الاول بارہ ہجری میں لکھا گیا۔