اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 288
صحاب بدر جلد 2 288 حضرت ابو بکر صدیق آگ نے ریاست مدینہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو بعض جگہوں پر اس کے پیچھے ایک ہاتھ انہی طاقتوں کا بھی تھا اور اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ہر قل کی فوجیں شام میں اور ایران کی فوجیں عراق میں جمع ہونے لگیں۔اس لیے ممکن ہی نہ تھا کہ حضرت ابو بکر جو آنحضرت صلی ایم کے ارشادِ مبارک کی تعمیل میں سب سے پہلے رومیوں کے خلاف پہلا لشکر حضرت اسامیہ کی قیادت میں بھیج چکے تھے وہ ان غاصب اور جابر طاقتوں سے بے خوف ہو کر بے فکر رہ سکتے لیکن قبل اس کے کہ آپ انھی کوئی لائحہ عمل سب کے سامنے رکھتے ، آپ کو خبر ملی کہ حضرت مثنی بن کار ﷺ جنہوں نے بحرین میں مرتد باغیوں کی بغاوت کو ختم کرنے میں مدد کی تھی انہوں نے اپنے ساتھیوں کو ہمراہ لیا اور خلیج فارس کے ساحل کے ساتھ ساتھ شمال کی جانب عراق کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔آخر وہ ان عربی قبائل میں جا پہنچے جو دجلہ اور فرات کے ڈیلٹائی علاقوں میں آباد تھے۔حضرت مقلی بن حارثہ بحرین کے ایک قبیلہ بکر بن وائل سے تعلق رکھتے تھے۔بحرین کا علاقہ یمامہ اور خلیج فارس کے درمیان واقع تھا اور اس میں موجودہ قطر اور امارت بحرین کے جزیرے بھی شامل تھے۔اس کا دارالحکومت دارین تھا۔بہر حال حضرت مقفیٰ بن حارثہ حضرت علاء بن حضرمی کے ساتھ مل کر باغیوں سے بھی جنگ کر چکے تھے اور بحرین اور اس کے نواح میں جو لوگ اسلام پر قائم رہے تھے اور جنہوں نے اسلامی فوجوں کے ساتھ مل کر باغیوں کی جنگوں میں حصہ لیا تھا حضرت منفی ان کے سردار تھے۔حضرت ابو بکر آئندہ اقدام کے متعلق ابھی فیصلہ کرنے نہ پائے تھے کہ حضرت مقلی خود مدینہ آگئے اور حضرت ابو بکر کو عراق کے حالات سے متعلق آگاہ کیا کہ جو عرب قبائل دجلہ اور فرات کے ڈیلٹائی علاقوں میں آباد ہیں وہ وہاں کے مقامی باشندوں کے ہاتھوں مصیبت میں ہیں، ان کو تنگ کیا جا رہا ہے۔عرب زیادہ تر کھیتی باڑی کرتے ہیں اور جب فصل پک جاتی ہے تو مقامی لوگ لوٹ لیتے ہیں۔چنانچہ حضرت مقلی بن حارثہؓ نے عرض کی کہ اسلامی فوجیں روانہ کر کے ان لوگوں کو مصیبت سے نجات دلائی جائے۔حضرت ابو بکر نے مدینہ کے اہل الرائے اصحاب سے مشورہ کیا اور حضرت متقی بن حارثہ کی تجویز سامنے رکھی۔چونکہ مدینہ کے لوگ عراق کے حالات سے ناواقف تھے اس لیے مشورہ دیا کہ حضرت خالد بن ولید کو بلا کر سارا معاملہ ان کے سامنے پیش کیا جائے، ان سے مشورہ لیا جائے۔حضرت خالد بن ولید ان دنوں یمامہ میں موجود تھے۔چنانچہ حضرت ابو بکرؓ نے انہیں مدینہ طلب فرمایا۔حضرت خالد بن ولید کے مدینہ پہنچنے پر جب حضرت ابو بکر نے عراق پر فوج کشی کی، حضرت مٹی کی تجویز ان کے سامنے رکھی ، تو حضرت خالد بن ولید کا بھی یہ خیال تھا کہ حضرت مفتی نے حدودِ عراق میں ایرانیوں کے خلاف جو کارروائی شروع کی ہے اگر خدانخواستہ وہ ناکام ہو گئی اور حضرت مٹی کی فوج کو عرب کی جانب پسپا ہونا پڑا تو ایرانی حکام اور دلیر ہو جائیں گے۔وہ صرف حضرت مثٹی کی فوج کو عراق کی حدود سے باہر نکالنے پر اکتفا نہیں کریں گے بلکہ بحرین اور اس کے ملحقہ علاقوں پر دوبارہ اثر ورسوخ رض