اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 285
تاب بدر جلد 2 285 حضرت ابو بکر صدیق محض نبوت کا دعویٰ کرنے پر کوئی کارروائی فرمائی اور نہ ہی حضرت ابو بکر کی یہ جنگی مہمات صرف اس وجہ سے تھیں کہ جھوٹے مدعیان نبوت کا قلع قمع کیا جاتا بلکہ اصل سوچ ان لوگوں کی باغیانہ روش تھی۔چنانچہ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ مدعیانِ نبوت سے صحابہ نے کیوں جنگیں کیں حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمایا ہے کہ مولانا مودودی صاحب کا یہ لکھنا کہ صحابہ نے ہر اس شخص کے خلاف جنگ کی جس نے آنحضرت صلی ایام کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا صحابہ کے اقوال کے خلاف ہے۔مولانا مودودی صاحب کو یاد رکھنا چاہیے۔(اس وقت ان کی زندگی کی بات ہے) کہ رسول کریم صلی علیکم کے بعد جن لوگوں نے دعوی نبوت کیا اور جن سے صحابہ نے جنگ کی وہ سب کے سب ایسے تھے جنہوں نے اسلامی حکومت سے بغاوت کی تھی اور اسلامی حکومت کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تھا۔آپؐ فرماتے ہیں کہ مولانا کو اسلامی لٹریچر کے مطالعہ کا بہت بڑا دعویٰ ہے۔کاش وہ اس امر کے متعلق رائے ظاہر کرنے سے پہلے اسلامی تاریخ پڑھ کر دیکھ لیتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، سجاح بنت حارث اور طلیحہ بن خویلد اسدی یہ سب کے سب ایسے لوگ تھے جنہوں نے مدینہ کی حکومت کی اتباع سے انکار کر دیا تھا اور اپنے اپنے علاقوں میں اپنی حکومتوں کا اعلان کر دیا تھا۔حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے کہ تاریخ ابن خلدون کو اگر غور سے پڑھتے تو یہ واضح ہو جاتا کہ مولانا صاحب کا جو نظریہ ہے وہ غلط ہے۔چنانچہ وہاں لکھا ہے کہ تمام عرب خواہ وہ عام ہوں یا خاص ہوں ان کے ارتداد کی خبریں مدینہ میں پہنچیں۔صرف قریش اور ثقیف دو قبیلے تھے جو ارتداد سے بچے اور مسیلمہ کا معاملہ بہت قوت پکڑ گیا اور کے اور اسد قوم نے طلیحہ بن خویلد کی اطاعت قبول کر لی اور غطفان نے بھی ارتداد قبول کر لیا اور ہوازن نے بھی زکوۃ روک لی اور بنی سکیم کے امراء بھی مرتد ہو گئے اور رسول کریم صلی علیم کے مقرر کردہ امراء یمن اور یمامہ اور بنی اسد اور دوسرے ہر علاقہ اور شہر سے واپس کوٹے اور انہوں نے کہا کہ عربوں کے بڑوں نے بھی اور چھوٹوں نے بھی سب کے سب نے اطاعت سے انکار کر دیا ہے۔حضرت ابو بکر نے انتظار کیا کہ اسامہ واپس آئے تو پھر ان کے ساتھ جنگ کی جائے لیکن عبس اور ڈبیان کے قبیلوں نے جلدی کی اور مدینہ کے پاس آئرش مقام پر آکر ڈیرے ڈال دیے اور کچھ اور لوگوں نے ذُوالقصّہ میں آکر ڈیرے ڈال دیے۔ان کے ساتھ بنی اسد کے معاہد بھی تھے اور بنی کنانہ میں سے بھی کچھ لوگ ان سے مل گئے تھے۔ان سب نے حضرت ابو بکر کی طرف وفد بھیجا اور مطالبہ کیا کہ نماز تک تو ہم آپ کی بات ماننے کے لیے تیار ہیں۔مدینہ کے ارد گرد جمع ہو گئے اور یہ بات کی کہ نماز تک تو بات ماننے کے لیے تیار ہیں لیکن زکوۃ ادا کرنے کے لیے ہم تیار نہیں لیکن حضرت ابو بکر نے ان کی اس بات کو رد کر دیا۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ صحابہ نے جن لوگوں سے لڑائی کی تھی وہ حکومت کے باغی تھے۔انہوں نے ٹیکس دینے سے انکار کر دیا تھا اور انہوں نے مدینہ پر حملہ کر دیا تھا۔مدینہ کے ارد گرد جمع ہو گئے تھے کہ اگر یہاں بات نہ مانی تو ہم حملہ کریں گے۔مسیلمہ نے تو خود رسولِ کریم صلی الم کے زمانہ میں آپ کو لکھا تھا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ آدھا ملک عرب کا ہمارے لیے ہے