اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 15 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 15

اصحاب بدر جلد 2 15 حضرت ابو بکر صدیق وہاں آپ نے ایک رؤیا د یکھی اور اس رویا کو بھی بڑا راہب سے بیان کیا۔اس پر بھی پیڑا راہب نے پوچھا کہ آپ کہاں سے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ مکہ سے۔اس نے پوچھا: مکہ کے کون سے قبیلہ سے ؟ آپ نے جواب دیا کہ قریش سے۔اس نے پوچھا: آپ کیا کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تاجر ہوں۔اس پر بحيرا راہب نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی رؤیا کو سچ کر دکھایا تو تمہاری قوم میں سے ایک نبی مبعوث کیا جائے گا۔تم اس نبی کی زندگی میں اس کے وزیر ہو گے اور اس کی وفات کے بعد اس کے خلیفہ ہو گے۔پھر حضرت ابو بکر نے اسے مخفی رکھا یہاں تک کہ نبی کریم صلی ای ام مبعوث ہو گئے تو حضرت ابو بکر نے کہا۔اے محمد صلی علیکم ! آپ جو دعویٰ کرتے ہیں اس کی دلیل کیا ہے ؟ باقی جگہ تو کوئی دلیل نہیں کبھی مانگی لیکن بہر حال اس روایت میں یہ ہے۔نبی کریم صلی نیلم نے فرمایا وہ خواب جو تم نے شام میں دیکھی تھی وہی دلیل ہے۔اس پر حضرت ابو بکڑ نے آپ صلی الیہ کم سے معانقہ کیا اور آپ کی آنکھوں کے درمیان بوسہ لیا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔58 اس روایت میں حضرت ابو بکر کی ایک رویا کا تذکرہ ہوا ہے لیکن اس کی تفصیلات اس جگہ درج نہیں کہ اس رویا میں حضرت ابو بکر نے کیا دیکھا تھا تاہم سیرت حلبیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسی رؤیا کی طرف اشارہ ہے جس میں حضرت ابو بکڑ نے دیکھا کہ چاند ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرا ہے جس کا پہلے تذکرہ گزر چکا ہے ، پہلے بیان ہو چکا ہے۔اب حضرت ابو بکر نے اس رویا کا ذکر بحیرا راہب کے سامنے کیا تھا۔اسد الغابہ میں حضرت ابو بکڑ کے قبول اسلام کے واقعہ کا اس طرح ذکر ملتا ہے۔59 حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی علیکم کے مبعوث ہونے سے پہلے ایک مرتبہ یمن گیا اور قبیلہ ازد کے ایک بوڑھے شخص کے پاس مہمان ٹھہرا۔یہ شخص ایک عالم تھا، کتب سماویہ پڑھا ہوا تھا اور اسے لوگوں کے حسب و نسب کے علم میں مہارت حاصل تھی۔اس نے جب مجھے دیکھا تو کہا میر اخیال ہے کہ تم حرم کے رہنے والے ہو۔میں نے کہا ہاں میں اہل حرم میں سے ہوں۔پھر اس نے کہا تم کو قریشی سمجھتا ہوں۔میں نے کہا ہاں میں قریش میں سے ہوں۔پھر اس نے کہا میں تم کو تیمی سمجھتا ہوں۔میں نے کہا ہاں میں تیم بن مرہ میں سے ہوں۔میں عبد اللہ بن عثمان ہوں اور کعب بن سعد بن تیم بن مرہ کی اولا د سے ہوں۔اس نے کہا کہ میرے لیے تمہارے متعلق اب صرف ایک بات رہ گئی ہے۔یہاں یہ جو عبد اللہ بن عثمان نام بتانا ہے ، میر اخیال ہے کہ اس وقت تو آنحضرت صلی اللہ کریم نے ابھی ان کا نام عبد اللہ نہیں رکھا تھا لیکن یہ روایت ہے۔بہر حال اس نے کہا کہ میرے لیے تمہارے متعلق اب صرف ایک بات باقی رہ گئی ہے۔میں نے کہا وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا تم اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹا کر دکھاؤ۔میں نے کہا میں ایسانہ کروں گا یا تم مجھے بتاؤ تم ایسا کیوں چاہتے ہو۔اس نے کہا کہ میں صحیح اور سچے علم میں پاتا ہوں کہ ایک نبی حرم میں مبعوث ہوں گے۔ایک جوان اور ایک بڑی عمر والا شخص ان کے کام میں ان کی مدد کریں گے۔