اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 275
اصحاب بدر جلد 2 275 حضرت ابو بکر صدیق شہادت کے بعد ان کی بیوی سے زبر دستی شادی بھی کر لی تھی جس کا نام ”مرزبانہ “ یا بعض کتب کے مطابق ”آزاد“ تھا۔اسی اثناء میں حضر موت اور یمن کے مسلمانوں کی طرف رسول اللہ صلی علیکم کا خط پہنچا جس میں ان کو اسود عنسی کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔لہذا اس مقصد کے لیے حضرت معاذ بن جبل کھڑے ہوئے اور اس سے مسلمانوں کے دل مضبوط ہو گئے۔جِشْنَش دیلمی کہتے ہیں کہ وَبَر بن يحيش رسول اللہ صلی للی کم کا خط لے کر ہمارے پاس آئے۔جشنسُ دَيْلَمِی کا نام بعض جگہ جُشَيْف دَيْلَمِی بھی بیان ہوا ہے۔بہر حال یہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں نبی کریم صلی علیہم نے اسود عنسی کے قتل کے لیے یمن میں خط لکھا تھا اور انہوں نے فیروز اور دَاذُ وَیہ کے ساتھ مل کر اسے قتل کیا تھا۔وبر بن يُحنس کا نام و بُرہ بن يُحيش بھی بیان ہوا ہے۔وہ ابنائے یمن میں سے تھے اور دس ہجری میں آنحضرت صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا تھا۔وہ بیان کرتے ہیں کہ اس خط میں آپ صلی علیہم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم اپنے دین پر قائم رہیں اور لڑائی یا حیلے سے آسود کے خلاف جنگی کارروائی کریں نیز ہم آپ صلی علیہم کے پیغام کو ان لوگوں کو بھی پہنچائیں جو اس وقت اسلام پر راسخ ہوں اور دین کی حمایت کے لیے آمادہ ہوں۔ہم نے عمل کیا مگر ہم نے دیکھا کہ اسود کے خلاف کامیاب ہونا بہت 669 668 دشوار ہے۔جفنش دیلمی بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ایک بات معلوم ہوئی کہ انور اور قیس بن عبد يغوث کے درمیان کچھ پر خاش پیدا ہو چکی ہے۔آپس میں پھوٹ پڑ گئی ہے یا کم از کم کچھ رنجشیں پیدا ہو گئی ہیں الہذا ہم نے سوچا کہ قیس کو اپنی جان کا خطرہ ہے۔قیس بن عَبْدِ يَغُوث کے نام اور نسب کے بارے میں اختلاف ہے۔ایک قول کے مطابق اس کا نام بيره بن عَبْدِ يَغُوث تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عَبْدِ يَغُوث بن ہبیرہ تھا۔بہر حال ابو موسیٰ کا کہنا ہے کہ یہ قیس بن عَبْدِ يَغُوث بن مکشوح تھے۔ایک قول کے مطابق یہ صحابی نہ تھے جبکہ دوسرے قول کے مطابق ان کو نبی کریم صلی یہ کم سے ملاقات اور آپ صلی ہی کم سے روایت کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔یہ اسود عنسی کو قتل کرنے والوں میں شامل تھے اور عمر و بن مَعْدِی گرب کے بھانجے تھے۔یہ یمن میں مرتد ہونے والوں میں سے تھے لیکن بعد میں اسلام کی طرف لوٹ آئے اور فتح عراق اور جنگ قادسیہ میں ان کا بہت نمایاں نام آتا ہے۔یہ جنگ نهاوند میں شریک تھے اور جنگ صفین میں حضرت علی کی ہمراہی میں شہید ہوئے۔اسود عنسی کا قتل جفتش دیلمی کہتے ہیں کہ ہم نے قیس کو اسلام کی دعوت دی اور اس کو آنحضرت ملا یہ کہ کا پیغام پہنچایا تو اسے ایسا محسوس ہوا کہ گویا ہم آسمان سے اترے ہیں۔اس لیے اس نے فوراً ہماری بات مان لی اور اسی طرح ہم نے دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی خط و کتابت کی۔مختلف قبائلی سردار بھی آئود کے مقابلے