اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 254 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 254

حاب بدر جلد 2 254 حضرت ابو بکر صدیق کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ یہی سلوک کرتا رہا تھا۔حضرت ظریفہ اسے وہاں لے گئے انہوں نے آگ جلائی اور اس میں اسے پھینک دیا۔ایک روایت میں آتا ہے کہ لڑائی کے دوران فجاءہ بھاگ گیا تو حضرت ظریفہ نے اس کا پیچھا کر کے اس کو قیدی بنالیا اور ابو بکر کے پاس بھیج دیا۔جب وہ حضرت ابو بکڑ کے پاس پہنچا تو انہوں نے اس کے لیے مدینہ میں ایک آگ کا بڑا الاؤ روشن کروایا اور اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اس میں پھینک دیا۔611 حضرت علاء بن حضر می کی مہم نویں مہم جو تھی وہ حضرت علاء بن حضرمٹی کی تھی جو مرتد باغیوں کے خلاف مہم تھی۔حضرت 613 ابو بکر نے ایک جھنڈا حضرت علاء بن حضرمی کو دیا اور ان کو بحرین جانے کا حکم دیا۔612 بحرین یمامہ اور خلیج فارس کے درمیان واقع تھا اور اس میں موجودہ قطر اور امارت بحرین بھی جو جزیرہ ہے شامل تھے۔یہ آجکل کا چھوٹا بحرین نہیں بلکہ بڑا وسیع علاقہ تھا۔اس کا دارالحکومت دارین تھا۔عہد نبوی صلی اللہ ہم میں یہاں مُنذر بن ساوی حکمران تھے جو حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ان دنوں بحرین یا سعودی عرب کو الاحساء کہتے ہیں۔3 حضرت علاء بن حضرمی کا تعارف یہ ہے کہ آپؐ کا نام علاء تھا۔آپ کے والد کا نام عبد اللہ تھا۔آپ کا تعلق یمن کے علاقہ حضر موت سے تھا۔دعوتِ اسلام کے آغاز میں مشرف بہ اسلام ہوئے۔حضرت علاء بن حضرمی کا ایک بھائی عمرو بن حضرمی مشرکوں کا وہ پہلا شخص تھا جس کو ایک مسلمان نے قتل کیا تھا اور اس کا مال پہلا مال تھا جو بطور خمس اسلام میں آیا۔جنگ بدر کے بنیادی اور فوری اسباب میں بھی یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک سبب یہ قتل بھی تھا۔حضرت علاء بن حضر میں کا ایک بھائی عامر بن حضر می بدر کے دن بحالتِ کفر مارا گیا۔جب رسول اللہ صلی علی یم نے بادشاہوں کو تبلیغی خطوط ارسال فرمائے تو منذر بن ساوی حاکم بحرین کے پاس خط لے جانے کی خدمت حضرت علاء بن حضرمی کے سپرد ہوئی۔اس کے بعد رسول اللہ صلی الم نے آپ کو بحرین کا عامل مقرر فرما دیا۔حضرت علاء بن حضرمی نے جب انہیں دعوتِ اسلام دی تو مندر بن ساوی نے اسلام قبول کر لیا۔منذر کو جب اسلام کا پیغام ملا تو اس کا جواب یہ تھا کہ میں نے اس امر کے سلسلہ میں غور و فکر کیا ہے جو میرے ہاتھ میں ہے تو میں نے دیکھا کہ یہ دنیا کے لیے ہے۔آخرت کے لیے نہیں ہے یعنی جو کچھ میرے پاس ہے یہ دنیا داری ہے۔آخرت کی تو میں نے کوئی تیاری نہیں کی اور میں نے جب تمہارے دین کے بارے میں غور و فکر کیا تو اسے دنیا و آخرت دونوں کے لیے مفید پایا۔لہذا دین کو قبول کرنے سے مجھے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔اسلام کی سچائی کا مجھے یقین ہو گیا ہے۔اس دین میں زندگی کی تمنا اور موت کی راحت ہے۔کہنے لگا کہ کل مجھے ان لوگوں پر تعجب ہو تا تھا جو اس کو قبول کرتے تھے اور آج ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو اس کو