اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 226
اصحاب بدر جلد 2 226 حضرت ابو بکر صدیق یہ تیر اور تلوار سے روکتی تھیں۔آنحضرت صلی علیم نے بعد میں خود فرمایا کہ میں احد میں ان کو اپنے دائیں اور بائیں برابر لڑتے ہوئے دیکھتا تھا۔ابن قیمہ جب آنحضرت صلی میں کمر کے پاس پہنچ گیا تو ام عمارہ نے اس کو بڑھ کر روکا۔چنانچہ اس کے وار سے حضرت ام عمارہ کے کندھے پر گہر از خم آیا۔انہوں نے بھی تلوار ماری لیکن وہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھا اس لیے کارگر نہ ہوئی۔بہر حال یہ ام عمارہ کا تاریخی مقام ہے یہ بیان کرتی ہیں کہ ان کے بیٹے عبد اللہ نے مسیلمہ کذاب کو قتل کیا۔حضرت ام عمارہ اس روز خود بھی جنگ یمامہ میں شامل تھیں اور اس میں ان کا ایک بازو کٹ گیا تھا۔حضرت ام عمارہ کے اس جنگ میں شامل ہونے کی وجہ یہ بیان ہوئی ہے کہ ان کے بیٹے حبیب بن زید جو حضرت عمرو بن عاص کے ساتھ عمان میں تھے جب رسول اللہ صلی الیہ کم کی وفات ہوئی یہ عمان میں تھے اور یہ خبر عمرو تک پہنچی تو وہ عثمان سے لوٹے۔راستے میں مسیلمہ سے ان کا سامنا ہوا۔حضرت عمرو بن عاص آگے نکل گئے۔حبیب بن زید اور عبد اللہ بن وہب پیچھے تھے ان دونوں کو مسیلمہ نے پکڑ لیا اور کہا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ عبد اللہ بن وہب نے کہا ہاں۔مسیلمہ نے ان کو لوہے کی زنجیروں میں قید کرنے کا حکم دیا۔ان کو یقین نہیں آیا، خیال تھا کہ شاید جان بچانے کے لیے کہہ رہے ہیں۔بہر حال پھر حبیب بن زید سے کہا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں سنتا نہیں۔اس نے پھر کہا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ؟ آپ نے کہا ہاں۔مسیلمہ نے ان کے بارے میں حکم دیا تو ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے اور جب بھی ان سے وہ کہتا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو وہ کہتے کہ میں سن نہیں سکتا۔اور جب وہ یہ کہتا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی علیکم اللہ کے رسول ہیں تو آپ کہتے ہاں۔یہاں تک کہ اس نے آپ کا ایک ایک عضو کاٹ ڈالا۔آپ کے ہاتھ کندھے کے جوڑ سے کاٹے گئے۔آپ کی ٹانگیں گھٹنوں سے اوپر تک کاٹ دیں پھر آپ کو آگ میں جلا دیا۔اس سارے واقعہ کے دوران نہ تو آپ اپنی بات سے پیچھے ہٹے اور نہ مسیلمہ اپنی بات سے پیچھے ہٹا یہاں تک کہ آپ آگ میں شہید ہو گئے۔ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت حبیب مسیلمہ کے پاس جب خط لے کر گئے تو اس وقت اس نے حضرت حبیب کو اس طرح ایک ایک عضو کاٹ کے شہید کیا اور پھر آگ میں جلا دیا۔جب حضرت ام عمارہ کو اپنے بیٹے کی شہادت کی خبر ملی تو انہوں نے قسم کھائی کہ وہ خود مسیلمہ کذاب کا سامنا کریں گی اور یا اس کو مار ڈالیں گی یا خود خدا کی راہ میں شہید ہو جائیں گی۔جب حضرت خالد بن ولید نے یمامہ کے لیے لشکر تیار کیا تو ام عمارہ حضرت ابو بکر صدیق کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور جنگ میں شمولیت کے لیے آپ سے اجازت طلب کی۔حضرت ابو بکڑ نے فرمایا کہ آپ جیسی خاتون کے جنگ کے لیے نکلنے میں کوئی چیز حائل نہیں ہو سکتی۔اللہ کا نام لے کر نکلیں۔اس جنگ میں ان کا ایک اور بیٹا عبد اللہ بھی شریک تھا۔وہ بیان کرتی ہیں کہ جب ہم یمامہ پہنچے تو