اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 193 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 193

اصحاب بدر جلد 2 193 حضرت ابو بکر صدیق اور انہیں شہید کر دیا اور طلیحہ نے جب دیکھا کہ اس کا بھائی اپنے مقابل سے فارغ ہو چکا ہے تو اس نے اسے اپنے مد مقابل یعنی عُکاشہ کے خلاف مدد کے لیے پکارا کہ آؤ میری مدد کرو ورنہ یہ شخص مجھے کھا جائے گا۔چنانچہ ان دونوں نے مل کر حضرت عُکاشہ پر حملہ کیا اور ان کو بھی شہید کر دیا اور اپنی جگہ واپس چلے گئے۔478 ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت خالد نے حضرت عکاشہ اور ثابت انصاری کو دشمن کی خبر گیری کے لیے بھیجا تو طلیحہ کا بھائی حبال ان کو ملا تو ان دونوں نے اس کو قتل کر دیا۔کس حد تک اس میں صداقت ہے اللہ جانتا ہے یا اگر یہ روایت صحیح ہے تو وہ لڑائی کے لیے آمادہ ہوا تو لڑائی ہوئی تب قتل ہوا۔کیونکہ بہر حال یہ لوگ تو خبر لینے کے لیے گئے تھے۔لڑائی کرنے کے لیے گئے ہی نہیں تھے۔جب یہ خبر طلیحہ کو پہنچی تو طلیحہ اور اس کا بھائی سلمہ نکلے۔طلیحہ نے حضرت عکاشہ کو شہید کر دیا اور اس کے بھائی نے حضرت ثابت ہو اور پھر دونوں واپس چلے گئے۔حضرت خالد اپنی فوج کے ساتھ آگے بڑھے یہاں تک وہ اس جگہ پہنچے جہاں حضرت ثابت مقتول ہونے کی حالت میں پڑے ہوئے تھے لیکن ان میں سے کسی کو ان کی خبر نہ تھی یہاں تک کہ اچانک کسی سواری کا ان پر پاؤں آگیا۔مسلمانوں پر یہ بہت گراں گزرا۔پھر جب غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ حضرت عُکاشہ بن محصن بھی شہید پڑے ہیں۔اس سے مسلمان اور بھی غمگین ہو گئے اور کہنے لگے کہ مسلمانوں کے سرداروں میں سے دو بڑے سردار اور گھڑ سواروں میں سے دو گھڑ سوار شہید ہو گئے۔تو اس صورت حال کو دیکھ کر حضرت خالد فوج کو مرتب کرنے لگے۔فوج کو جنگ کے لیے ترتیب دیا اور قبیلہ کے کی طرف لوٹ گئے۔ایک روایت میں ہے حضرت عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت خالد بن ولید سے کہلا بھیجا کہ آپ میرے پاس آکر چند روز قیام کریں۔میں کلے کے تمام قبائل کے پاس آدمی بھیجتا ہوں اور جس قدر مسلمان اس وقت آپ کے ساتھ ہیں ان سے کہیں زیادہ فوج آپ کے لیے جمع کیے دیتا ہوں اور پھر میں خود آپ کے دشمن کے مقابلے میں آپ کے ساتھ چلوں گا۔پس آپ میری طرف چل پڑے یعنی اس طرف آگئے۔طلیحہ سے جنگ اور اس کا فرار ایک روایت میں ہے کہ حضرت خالد نے قصبہ سلمیٰ میں اُرك مقام پر قیام کیا تھا مگر دوسری روایت کے مطابق آپ نے اجاء مقام پر قیام کیا تھا۔یہاں سے حضرت خالد نے طلیحہ کے مقابلے کے لیے اپنی فوج کو مرتب کیا اور بُزاخہ پر دونوں کا مقابلہ ہوا۔جب لوگوں نے لڑائی شروع کی تو عیینہ نے بنو فزارہ کے سات سو افراد کے ساتھ مل کر طلیحہ کی معیت میں سخت لڑائی کی۔عیینہ اور طلیحہ اکٹھے مل گئے۔انہوں نے مسلمانوں کے خلاف جنگ کی۔طلیحہ اپنے اونی خیمے کے صحن میں چادر اوڑھے بیٹھا تھا۔یہ نبی بنا ہوا تھا اس لیے یہ خیمے میں بیٹھا رہا اور غیب کی خبریں دیتا تھا۔کہتا تھا تم لوگ جنگ لڑو میں یہاں سے