اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 184
حاب بدر جلد 2 184 حضرت ابو بکر صدیق حضرت ابو بکر کے دو فرمان اس موقع پر حضرت ابو بکر نے دو فرمان بھی لکھے تھے: ایک عرب قبائل کے نام اور دوسرا سپہ سالاران فوج کی ہدایت کے لیے۔463 یہی پہلے مصنف ڈاکٹر علی محمد صلابی جو ہیں، یہ ایک خط کے متعلق لکھتے ہیں کہ اسلامی لشکروں کی تیاری اور ٹھوس تنظیم کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ تحریری دعوت کا سلسلہ جاری رہا اور اس نے اہم کردار ادا کیا۔آپ نے ایک عام خط تحریر کیا جو محدود مضمون پر مشتمل تھا۔مرتدین سے قتال کے لیے افواج کو روانہ کرنے سے قبل آپ نے اس خط کو مرتدین اور ثابت قدم رہنے والے سب کے درمیان اونچے پیمانے پر ممکنہ حد تک نشر کرنے کی کوشش کی۔قبائل کے پاس لوگوں کو روانہ کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہاں پہنچ کر ہر مجمع میں یہ خط سنائیں اور جس کو بھی اس خط کا مضمون پہنچے اسے حکم فرمایا کہ وہ ان لوگوں تک بات پہنچا دے جن تک نہیں پہنچی۔حضرت ابو بکر نے اس خط میں عام اور خاص سب کو خطاب کیا خواہ وہ اسلام پر ثابت قدم رہنے والے ہوں یا اس سے مرتد ہو جانے والے۔464 حضرت ابو بکر کا وہ خط جو قبائل عرب کے نام تھا وہ سب سے زیادہ تفصیلات کے ساتھ طبری نے بیان کیا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی تصنیف سر الخلافہ میں اس خط کا بھی ذکر فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا کہ مناسب ہے کہ ہم یہاں وہ خط درج کر دیں جو صدیق اکبر نے مرتد ہونے والے قبائل عرب کی طرف لکھا تا کہ اس خط پر اطلاع پانے والے صدیق اکبر کی شعائر اللہ کی ترویج اور رسول اللہ صلی اللی کم کے تمام سنن کے دفاع میں مضبوطی کو دیکھ کر ایمان اور بصیرت میں ترقی کریں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہ خط لکھتے ہیں جو اس طرح شروع ہوتا ہے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ یہ خط ابو بکر خلیفۃ الرسول صلی ہی کم کی طرف سے ہر خاص و عام کے لیے ہے۔جس تک پہنچے خواہ وہ اسلام پر قائم رہا ہے یا اس سے پھر گیا ہے۔ہدایت کی اتباع کرنے والے ہر شخص پر سلامتی ہو جو ہدایت کے بعد گمراہی اور اندھے پن کی طرف نہیں لوٹا۔پس میں تمہارے سامنے اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو واحد ہے لاشریک ہے اور یہ کہ محمد صلی علی کم اس کے بندے اور رسول ہیں اور جو تعلیم آپ صلی ال کام لے کر آئے اس کا ہم اقرار کرتے ہیں اور جس نے اس سے انکار کیا اسے ہم کافر قرار دیتے ہیں اور اس سے جہاد کرتے ہیں۔اما بعد واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی علیہ ہم کو اپنی جناب سے حق دے کر اپنی مخلوق کی طرف مبشر نذیر اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والے اور ایک منور کر دینے والے سورج کے طور پر بھیجا تا کہ آپ صلی علیہم اسے ڈرائیں جو زندہ ہو اور کافروں پر فرمان صادق آجائے۔اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو حق کے ساتھ ہدایت دی جس نے آپ صلی علیہ ہم کو قبول کیا اور جس نے آپ صلی علیہ کمی سے پیٹھ پھیر لی اس سے رسول اللہ صلی اللی رام نے اس وقت تک جنگ کی کہ وہ طوعا و کر تھا اسلام میں آگیا۔پھر رسول اللہ صل الی یوم وفات پاگئے بعد اس کے کہ آپ صلی علیہ ہم نے اللہ کے حکم کو نافذ فرمالیا اور امت کی خیر خواہی کر