اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 183
اصحاب بدر جلد 2 183 حضرت ابو بکر صدیق روانہ فرمایا وہ آپس میں مربوط تھے اور یہ خلافت کی اہم کامیابیوں میں سے تھا کیونکہ ان لشکروں کے اندر قیادت کی مہارت کے ساتھ حسن تنظیم بھی موجود تھا۔461 مزید بر آس اس کے علاوہ قتال میں تجربہ پہلے سے تھا۔رسول اللہ صلی للی نم کے دور میں غزوات و سرایا کی تحریک میں انہیں عسکری اعمال کا اچھا تجربہ ہو چکا تھا۔ابو بکر کی حکومت کا عسکری نظام جزیرہ عرب میں تمام عسکری قوتوں پر فوقیت رکھتا تھا اور ان لشکروں کے قائد سیف اللہ الْمَسْلُول خالد بن ولید تھے جو اسلامی فتوحات اور حروب ارتداد میں منفر د عبقری شخصیت کے حامل تھے۔اسلامی فوج کی یہ تقسیم انتہائی اہم فوجی منصوبہ کے تحت عمل میں آئی تھی کیونکہ مرتدین ابھی تک اپنے اپنے علاقوں میں متفرق تھے یعنی کہ بکھرے ہوئے تھے جمع نہیں ہوئے تھے۔مسلمانوں کے خلاف ان کی جتھہ بندی عمل میں نہ آسکی تھی۔بڑے قبائل دور دراز علاقوں میں بکھرے تھے۔وقت اس کے لیے کافی نہ تھا کہ وہ آپس میں جتھہ بندی کر سکیں کیونکہ ارتداد شروع ہوئے ابھی تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ نہ گزرا تھا اور ثانیاً وہ اپنے خلاف مسلمانوں کے خطرے کو نہ سمجھ سکے۔وہ یہ تصور کیے ہوئے تھے کہ چند ماہ میں تمام مسلمانوں کا صفایا کر دیں گے۔اسی لیے ابو بکر نے چاہا کہ اچانک ان کی شوکت و حکومت کا صفایا کیا جائے، قبل ازیں کہ وہ اپنے باطل کی نصرت کے لیے جتھہ بندی کر سکیں۔اس لیے ابو بکر نے ان کے فتنہ کے بڑھنے سے قبل ہی ان کی خبر لی اور انہیں اس بات کا موقع نہ دیا کہ وہ اپنا سر اٹھا سکیں اور اپنی زبان دراز کر سکیں جس سے مسلمانوں کو تکلیف پہنچا سکیں۔حضرت ابو بکر کی جانب سے قائدین کی تقرری کے حوالے سے مختلف امور کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک لکھنے والے مصنف لکھتے ہیں کہ نمبر ایک تو اس منصوبہ میں اس بات کا اہتمام کیا گیا کہ لشکروں کے در میان آپس میں ربط اور تعاون برابر قائم رہے۔اگر چہ ان کے مقامات اور جہات مختلف تھے لیکن سب ایک ہی سلسلہ کی کڑیاں تھیں۔ان کا آپس میں ملنا اور جد اہونا ایک ہی مقصد کے پیش نظر تھا اور خلیفہ کے مدینہ میں ہوتے ہوئے قتال کے جملہ امور کا کنٹرول، پاور اس کے ہاتھ میں تھا یعنی خلیفہ کے ہاتھ میں تھا۔(ب) دوسرا نمبر یہ کہ صدیق اکبر نے دارالخلافہ مدینہ کی حفاظت کے لیے فوج کا ایک حصہ اپنے پاس رکھا اور اسی طرح امور حکومت میں رائے اور مشورہ کے لیے کبار صحابہ کی ایک جماعت اپنے پاس رکھی۔تیسرے یہ کہ ابو بکر کو معلوم تھا کہ ارتداد سے متاثرہ علاقوں میں اسلامی قوت موجود ہے۔آپ کو اس کی فکر لاحق ہوئی کہ کہیں یہ مسلمان مشرکین کے غیظ و غضب کا نشانہ نہ بنیں اس لیے قائدین کو حکم فرمایا کہ ان میں سے جو قوت اور طاقت کے مالک ہیں ان کو اپنے ساتھ شامل کر لیں اور ان علاقوں کی حفاظت کی خاطر کچھ افراد کو وہاں مقرر کر دیں۔چوتھے مرتدین کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے ابو بکر نے الْحَرْبُ خُدّعَةٌ کے اصول کو اپنایا۔فوج کے اہداف کچھ ظاہر کرتے حالانکہ مقصود کچھ اور ہی ہو تا۔انتہائی احتیاط اور حذر کا طریقہ اختیار کیا کہ کہیں ان کا منصوبہ فاش نہ ہونے پائے۔اس طرح ابو بکر کی قیادت میں سیاسی مہارت، علمی تجربہ، علم راسخ اور ربانی فتح اور نصرت نمایاں ہوتی ہیں۔462