اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 174
" حاب بدر جلد 2 174 حضرت ابو بکر صدیق اس صلح نامہ کی دوسری شرط سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ مرتد کے لیے کوئی شرعی حد مقرر نہ تھی کیونکہ اگر ارتداد کے لیے شریعت اسلام میں یہ سزا مقرر ہوتی کہ اس کو قتل کیا جائے تو شرعی حد کے معاملہ میں بھی کبھی آپ مشرکین کی بات قبول نہ فرماتے۔اس کے علاوہ بھی ایسے کئی واقعات ہیں جن سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ نبی اکرم صلی الی ایم کے عہد مبارک میں چند لوگوں نے دین اسلام سے ارتداد اختیار کیا لیکن محض ارتداد کی وجہ سے ان سے کوئی تعارض نہ کیا گیا تاوقتیکہ انہوں نے محاربت اور بغاوت جیسے افعال شنیعہ کا ارتکاب نہ کیا۔حضرت مصلح موعودؓ نے قرآن مجید کی ایک اور آیت سے بھی اس مسئلے کو یوں واضح فرمایا ہے کہ "وَ مَا عَلَى الرَّسُولِ إِلا الْبَاغُ الْمُبِينُ “ فرمایا کہ ” اس میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ تلوار کی بجائے تبلیغ سے کام لینا ہی ایک دیرینہ اصول ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اسی اصول کو اختیار کیا تھا۔اور ان کے زمانہ کے لوگوں کو بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی ارشاد ہو اتھا کہ ہمارے اس رسول کا کام صرف بات پہنچا دینا ہے تلوار سے منوانا نہیں اور یہی سارے قرآن کا خلاصہ ہے کہ دلیل کے ساتھ بات منوانا مذ ہبی لوگوں کا کام ہو تا ہے۔جبر سے منوانا مذہبی لوگوں کا کام نہیں۔مگر افسوس ہے کہ اب تک دنیا اس مسئلہ کو نہیں سمجھی بلکہ خود مسلمانوں میں بھی قتل مرتد کو جائز سمجھا جاتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حالانکہ کسی کا عقیدہ جھوٹ ہو یا سچ، عقیدہ رکھنے والا اسے بہر حال ویساہی سچا سمجھتا ہے جیسے ایک مسلمان اپنے مذہب کو سچا سمجھتا ہے۔عیسائیت جھوٹی سہی مگر سوال تو یہ ہے کہ دنیا کا اکثر عیسائی عیسائیت کو کیا سمجھتا ہے۔وہ یقیناً اسے سچا سمجھتا ہے۔ہندو مذہب جھوٹا ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ دنیا کا اکثر ہند و اپنے مذہب کو کیا سمجھتا ہے۔وہ یقیناً اسے سچا سمجھتا ہے۔یہودی مذہب یقیناً اس وقت سچا نہیں۔لیکن سوال تو یہ ہے کہ یہودیوں کا اکثر حصہ یہودیت کو کیا سمجھتا ہے۔وہ یقیناً اسے سچا سمجھتا ہے۔پس اگر اس بات پر کسی کو قتل کرنا جائز ہے کہ میں سمجھتا ہوں میر امذ ہب سچا ہے دوسرے کا نہیں۔صرف یہی بات اگر ہے تو پھر ایک عیسائی کو یہ کیوں حق حاصل نہیں کہ وہ جس مسلمان کو چاہے قتل کر دے۔ایک ہندو کو کیوں حق حاصل نہیں کہ وہ جبر ادوسروں کو ہندو بنالے یا انہیں مار ڈالے۔چین میں کنفیوشس مذہب کے پیروؤں کو یہ کیوں حق نہیں کہ وہ زبردستی لوگوں کو اپنے مذہب میں شامل کر لیں۔فلپائن میں جہاں اب بھی پندرہ بیس ہزار مسلمان ہے۔“ اس زمانے میں جب آپؐ نے بیان فرمایا۔اب تو زیادہ ہیں۔عیسائیوں کو کیوں حق حاصل نہیں کہ وہ مسلمانوں کو جبر اعیسائی بنالیں۔امریکہ کو کیوں حق حاصل نہیں کہ وہ جبر اان مسلمانوں کو جو اس کے ملک میں رہتے ہیں عیسائی بنالے۔روس کو کیوں حق حاصل نہیں کہ وہ جبر اسب کو عیسائی بنالے یا جبر اسب کو کمیونسٹ بنالے۔اگر مسلمان دوسروں کو جبر ا اپنے عقیدہ پر لا سکتے ہیں تو ویسا ہی حق عقلاً دوسروں کو بھی حاصل ہے لیکن کیا اس حق کو جاری کر کے دنیا میں کبھی امن قائم رہ سکتا ہے۔کیا اس حق کو جاری کر کے تم اپنے بیٹے کو بھی کہہ سکتے ہو کہ یہ مسئلہ ٹھیک ہے یا بیوی کو بھی کہہ سکتے