اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 135 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 135

حاب بدر جلد 2 360 135 حضرت ابو بکر صدیق آئے۔حضرت ابو بکر نے فرمایا: رسول اللہ صلی نیلم کے چچا کے بیٹے اور آپ کے داماد ! کیا تم مسلمانوں کی طاقت کو توڑنا چاہتے ہو ؟ حضرت علی نے عرض کیا کہ اے رسول اللہ صل اللی کم کے خلیفہ اگر فت نہ کیجئے پھر انہوں نے حضرت ابو بکر کی بیعت کر لی۔علامہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ حضرت علی ابن ابی طالب نے نبی کریم صلی للی کم کی وفات کے بعد پہلے دن یا دوسرے دن حضرت ابو بکر کی بیعت کر لی تھی۔اور یہی سچ ہے کیونکہ حضرت علی نے حضرت ابو بکر ہو کبھی نہیں چھوڑا اور نہ ہی حضرت ابو بکر کے پیچھے نماز کی ادائیگی ترک کی۔361 حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بیان فرماتے ہیں کہ ”حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اول اول حضرت ابو بکر کی بیعت سے بھی تخلف کیا تھا۔مگر پھر گھر میں جاکر خدا جانے یک دفعہ کیا خیال آیا کہ پگڑی بھی نہ باندھی اور فوراٹوپی سے ہی بیعت کرنے کو آگئے اور پگڑی پیچھے منگائی۔معلوم ہو تا ہے کہ ان کے دل میں خیال آگیا ہو گا کہ یہ تو بڑی معصیت ہے۔اسی واسطے اتنی جلدی الله سة الله سة کی کہ پگڑی بھی نہ باندھی۔362 اور فوراٹوپی سے ہی بیعت کرنے کو آگئے اور پگڑی پیچھے منگوائی۔حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ : ”حضرت ابو بکر کو دیکھ لو۔آپ مکہ کے ایک معمولی تاجر تھے۔اگر محمد رسول اللہ صلی للی نام مبعوث نہ ہوتے اور مکہ کی تاریخ لکھی جاتی تو مؤرخ صرف اتنا ذکر کرتا کہ ابو بکر عرب کا ایک شریف اور دیانتدار تاجر تھا مگر محمد رسول اللہ صلی الیکم کی اتباع سے ابو بکر کو وہ مقام ملا تو آج ساری دنیا ان کا ادب اور احترام کے ساتھ نام لیتی ہے۔جب رسول کریم صلی علیہ کی وفات پاگئے اور حضرت ابو بکر کو مسلمانوں نے اپنا خلیفہ اور بادشاہ بنا لیا تو مکہ میں بھی یہ خبر جا پہنچی۔ایک مجلس میں بہت سے لوگ بیٹھے تھے جن میں حضرت ابو بکر کے والد ابو قحافہ بھی موجود تھے۔جب انہوں نے سنا کہ ابو بکر کے ہاتھ پر لوگوں نے بیعت کرلی ہے تو ان کے لئے اس امر کو تسلیم کرنا ناممکن ہو گیا اور انہوں نے خبر دینے والے سے پوچھا کہ تم کس ابو بکر کا ذکر کر رہے ہو ؟ اس نے کہا وہی ابو بکر جو تمہارا بیٹا ہے۔انہوں نے عرب کے ایک ایک قبیلے کا نام لے کر کہنا شروع کر دیا کہ اس نے بھی ابو بکر کی بیعت کر لی ہے اور جب اس نے کہا کہ سب نے متفقہ طور پر ابو بکر کو خلیفہ اور بادشاہ چن لیا ہے تو ابو قحافہ بے اختیار کہنے لگے کہ اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَدُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد رسول اللہ اس کے سچے رسول ہیں۔“ حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ ”حالانکہ وہ دیر سے مسلمان تھے “ حضرت ابو قحافہ نے پہلے ہی آنحضرت صلی الم کی بیعت کر لی تھی۔”انہوں نے جو یہ کلمہ پڑھا اور دوبارہ محمد رسول اللہ صلی علیکم کی رسالت کا اقرار کیا تو اسی لئے کہ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو ان کی آنکھیں کھل گئیں اور انہوں نے سمجھا کہ یہ اسلام کی سچائی کا ایک زبر دست ثبوت ہے ورنہ میرے بیٹے کی کیا حیثیت تھی کہ اس کے ہاتھ پر سارا عرب متحد ہو جاتا۔363