اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 117 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 117

محاب بدر جلد 2 117 حضرت ابو بکر صدیق طرف گیا کہ دیکھوں کہ وہ کیا ہے تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صل اللی کم حضرت ابو بکر اور حضرت عمر نہیں اور میں نے دیکھا کہ حضرت عبد اللہ ذُوالبجادین مُزَنی فوت ہو گئے ہیں اور یہ لوگ ان کی قبر کھودچکے تھے اور رسول اللہ صلی علی کی قبر کے اندر تھے جبکہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمران کی میت کو آپ کی طرف اتار رہے تھے اور آپ صلی علیہ کی فرمارہے تھے کہ تم دونوں اپنے بھائی کو میرے قریب کرو۔پس ان دونوں نے حضرت عبد اللہ ذوالبجادین کی میت کو رسول اللہ صلی علیہ کم کی طرف اتارا۔جب آپ نے انہیں قبر میں رکھ دیا تو آپ صلی علیہم نے دعا کی۔اَللهُمَّ إِنِّي أَمْسَيْتُ رَاضِبًا عَنْهُ فَارْضَ عَنْهُ که: اے اللہ ! میں نے اس حال میں شام کی ہے کہ میں اس سے راضی تھا پس تو بھی اس سے راضی ہو جا۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس وقت تمنا کی کہ کاش یہ قبر والا میں ہو تا۔319 حضرت عبد الله ذُوالبجادین کا تعلق قبیلہ بنو مُزيَّنَه سے تھا۔ان کے بارے میں آتا ہے کہ یہ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ ان کے والد فوت ہو گئے۔انہیں وراثت میں سے کچھ نہ ملا۔ان کے چا مالدار تھے۔اس چانے آپ کی کفالت کی حتی کہ آپ بھی مالدار ہو گئے اور انہوں نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا تو ان کے چچانے ان سے سب کچھ لے لیا یہاں تک کہ آپ کا تہ بند بھی کھینچ لیا۔پھر آپ کی والدہ آئیں اور انہوں نے اپنی چادر کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور حضرت عبد اللہ نے ایک حصہ کو بطور تہ بند استعمال کر لیا اور دوسرے حصہ کو اپنے اوپر اوڑھ لیا۔پھر آپ مدینہ آئے اور مسجد میں لیٹ گئے۔پھر رسول اللہ صلی علیہ کام کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی۔یہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی علیکم صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تھے تو لو گوں کو غور سے دیکھتے تھے کہ کون لوگ ہیں، کوئی نیا آدمی ہے ؟ تو آپ صلی غیر کم نے حضرت عبد اللہ کی طرف دیکھا تو انہیں اجنبی سمجھا اور حضرت عبد اللہ سے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ حضرت عبد اللہ نے اپنا نسب بیان کیا۔ایک روایت میں ذکر ہے کہ آپ نے عرض کی کہ میرا نام عبد العزّمی ہے۔اس پر آپ صلی الی یم نے فرمایا تم عبد اللہ ذوالبجادین یعنی دو چادروں والے ہو۔پھر فرمایا تم میرے قریب ہی رہا کرو۔چنانچہ یہ رسول کریم صلی للی کمر کے مہمانوں میں شامل تھے اور آپ انہیں قرآن کریم سکھاتے تھے یہاں تک کہ آپ نے بہت سا قرآن یاد کر لیا اور آپ بلند آواز شخص تھے۔320 حضرت ابو بکر امیر الحجاج حضرت ابو بکر صدیق کی حج کے موقع پر امارت کے بارے میں ذکر ہے کہ آنحضرت صلی ہم نے 19 ہجری میں حضرت ابو بکر صدیق کو امیر امج بنا کر مکہ روانہ فرمایا تھا۔اس بارے میں تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی الل علم جب تبوک سے واپس آئے تو آپ نے حج کا ارادہ کیا۔پھر آپ سے ذکر کیا گیا کہ مشرکین دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر حج کرتے ہیں۔وہاں مشرکین بھی ہوں گے اور شرکیہ الفاظ